المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
إذا أحدث أحدكم في صلاته فليأخذ بأنفه ولينصرف وليتوضأ وكل من أفتى بالحيل احتج به باب: جب تم میں سے کسی کو نماز میں حدث لاحق ہو جائے تو وہ ناک پکڑ لے، صف سے نکل جائے اور وضو کرے، اور جو شخص حیلوں کے ذریعے فتویٰ دے وہ اسی پر پکڑا جائے گا۔
حدیث نمبر: 669
وحدَّثَناه إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حَدَّثَنَا جدِّي، حَدَّثَنَا نُعَيم بن حمّاد، حَدَّثَنَا الفضل بن موسى، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "إذا أحدَثَ أحدُكم في صلاته، فليأخُذ بأنفه وليَنصرِفْ فليتوضَّأْ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران حدت (ریاح وغیرہ) پیش آئے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر مڑ جائے اور وضو کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2239) من طريق محمود بن غيلان، عن الفضل بن موسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2239) نے محمود بن غیلان کے واسطے سے، انہوں نے فضل بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهذا إسناد صحيح. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اور یہ سند صحیح ہے۔ ملاحظہ کیجیے اس سے پہلی روایت۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2239) من طريق محمود بن غيلان، عن الفضل بن موسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2239) نے محمود بن غیلان کے واسطے سے، انہوں نے فضل بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهذا إسناد صحيح. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اور یہ سند صحیح ہے۔ ملاحظہ کیجیے اس سے پہلی روایت۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 669 سے ماخوذ ہے۔