مستدرکِ حاکم
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
إذا أحدث أحدكم في صلاته فليأخذ بأنفه ولينصرف وليتوضأ وكل من أفتى بالحيل احتج به باب: جب تم میں سے کسی کو نماز میں حدث لاحق ہو جائے تو وہ ناک پکڑ لے، صف سے نکل جائے اور وضو کرے، اور جو شخص حیلوں کے ذریعے فتویٰ دے وہ اسی پر پکڑا جائے گا۔
حدیث نمبر: 669
وحدَّثَناه إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حَدَّثَنَا جدِّي، حَدَّثَنَا نُعَيم بن حمّاد، حَدَّثَنَا الفضل بن موسى، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "إذا أحدَثَ أحدُكم في صلاته، فليأخُذ بأنفه وليَنصرِفْ فليتوضَّأْ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران حدت (ریاح وغیرہ) پیش آئے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر مڑ جائے اور وضو کرے۔“
سمعتُ عليَّ بن عمر الدارَقُطْني الحافظ يقول: سمعتُ أبا بكر الشافعي الصَّيرَفي يقول: كلُّ مَن أفتى من أئمَّة المسلمين من الحِيَل، إنما أخَذَه من هذا الحديث.
حافظ طلحہ بابر
امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر شافعی صیرفی کو یہ کہتے سنا ہے کہ ائمہ مسلمین میں سے جس کسی نے بھی (شرعی) حیلوں کے بارے میں فتویٰ دیا ہے، اس نے اسی حدیث سے اخذ کیا ہے۔