المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
إذا أحدث أحدكم في صلاته فليأخذ بأنفه ولينصرف وليتوضأ وكل من أفتى بالحيل احتج به باب: جب تم میں سے کسی کو نماز میں حدث لاحق ہو جائے تو وہ ناک پکڑ لے، صف سے نکل جائے اور وضو کرے، اور جو شخص حیلوں کے ذریعے فتویٰ دے وہ اسی پر پکڑا جائے گا۔
حدیث نمبر: 669M
سمعتُ عليَّ بن عمر الدارَقُطْني الحافظ يقول: سمعتُ أبا بكر الشافعي الصَّيرَفي يقول: كلُّ مَن أفتى من أئمَّة المسلمين من الحِيَل، إنما أخَذَه من هذا الحديث.
حافظ طلحہ بابر
امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر شافعی صیرفی کو یہ کہتے سنا ہے کہ ائمہ مسلمین میں سے جس کسی نے بھی (شرعی) حیلوں کے بارے میں فتویٰ دیا ہے، اس نے اسی حدیث سے اخذ کیا ہے۔