حدیث نمبر: 670
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، حَدَّثَنَا الأعمش. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُمَيدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا الأعمش، عن زيد بن وَهْب، عن عبد الرحمن ابن حَسَنة قال: انطلقتُ أنا وعمرُو بن العاص فخرج علينا رسول الله ﷺ وبيده دَرَقةٌ أو شبيه بالدَّرَقة، فاستَتَرَ بها فبالَ وهو جالس، فقلتُ لصاحبي: ألَا ترى إلى رسول الله ﷺ كيف يبولُ كما تبول المرأة، قال: فأتانا، فقال: "أَلَا تَدرُونَ ما لَقِيَ صاحبُ بني إسرائيل، كان إذا أصاب أحدًا شيءٌ من البولِ قَرَضَه بالمِقْراض، قال: فنهاهم عن ذلك، فعُذِّبَ في قبره" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 657 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نکلے تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی، آپ ﷺ نے اس کی اوٹ لی اور بیٹھ کر پیشاب کیا، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کو دیکھو کہ وہ عورتوں کی طرح (بیٹھ کر) پیشاب کر رہے ہیں،“ آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو کیا پیش آیا؟ جب ان میں سے کسی کو پیشاب کا کوئی قطرہ لگ جاتا تو وہ اسے قینچی سے کاٹ دیتا تھا، اس نے انہیں اس سے روکا تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 670
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 670] [ترقيم الشركة 662] [ترقيم العلميه 657]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17760) عن وكيع، عن الأعمش، بهذا الإسناد. وانظر ما بعده.

الدَّرَقة: التُّرس من جلد.

حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 29/ (17760) نے وکیع عن الاعمش کی سند سے روایت کیا ہے، اگلی روایت بھی ملاحظہ کریں۔
نوٹ / توضیح: 'الدَّرَقہ' سے مراد چمڑے کی بنی ہوئی ڈھال ہے۔
وقوله: "قرضه" أي: قطع ما أصاب ثوبه من البول.
نوٹ / توضیح: حدیث میں لفظ 'قرضہ' کا مطلب ہے: کپڑے کا وہ حصہ کاٹ دینا جہاں پیشاب لگا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 670 سے ماخوذ ہے۔