المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
إذا أحدث أحدكم في صلاته فليأخذ بأنفه ولينصرف وليتوضأ وكل من أفتى بالحيل احتج به باب: جب تم میں سے کسی کو نماز میں حدث لاحق ہو جائے تو وہ ناک پکڑ لے، صف سے نکل جائے اور وضو کرے، اور جو شخص حیلوں کے ذریعے فتویٰ دے وہ اسی پر پکڑا جائے گا۔
حدیث نمبر: 673
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن المِقْدام بن شُريح، عن أبيه قال: سمعتُ عائشةَ تُقسِمَ بالله ما رأَى أحدٌ رسولَ الله ﷺ يبول قائمًا منذ أُنزِلَ عليه الفُرقان (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما لِمَا اتَّفقا على حديث منصور عن أبي وائل عن حُذيفة: أنَّ رسول الله ﷺ أَتى سُبَاطةَ قوم فبال قائمًا (3)، وَجَدَا حديث المقدام عن أبيه عن عائشة معارِضًا له فترَكاه، والله أعلم. وله شاهد من حديث المكيِّين:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا کہ جب سے رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا کسی نے آپ ﷺ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میرے نزدیک انہوں نے اسے اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ یہ سیدنا عائشہ کی روایت سیدنا حذیفہ کی روایت کے بظاہر معارض تھی جس میں آپ ﷺ کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ثابت ہے، واللہ اعلم۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں ماقبل کی بحث ملاحظہ فرمائیں۔
(3) هو من هذا الطريق عند البخاريّ برقم (225) و (2471) ومسلم (273) (74).
حوالہ / مصدر: یہ روایت اسی طریق (سند) کے ساتھ امام بخاری کے ہاں نمبر (225) اور (2471) پر، اور امام مسلم کے ہاں نمبر (273) (74) پر موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں ماقبل کی بحث ملاحظہ فرمائیں۔
(3) هو من هذا الطريق عند البخاريّ برقم (225) و (2471) ومسلم (273) (74).
حوالہ / مصدر: یہ روایت اسی طریق (سند) کے ساتھ امام بخاری کے ہاں نمبر (225) اور (2471) پر، اور امام مسلم کے ہاں نمبر (273) (74) پر موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 673 سے ماخوذ ہے۔