أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مَعمَر، عن أشعَثَ، عن الحسن، عن عبد الله بن مُغفّل، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا يبولَنَّ أحدُكم في مُستحَمَّه"، فإنَّ عامَّةَ الوِسْواسِ منه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد على شرطهما:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد على شرطهما:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے،“ کیونکہ عام طور پر وسوسے اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حَدَّثَنَا محمد بن المِنْهال، حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن عُقبة بن صُهْبان، عن عبد الله بن مغفَّل قال: نُهِىَ - أو زُجر - أن يُبال في المغتسَل (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 663 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 663 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غسل کرنے کی جگہ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُويس، حَدَّثَنَا سليمان بن بلال. وحدثني محمد بن صالح بن هانئٍ، حَدَّثَنَا محمد بن نُعَيم، حَدَّثَنَا قُتيبة بن سعيد، حَدَّثَنَا إسماعيل بن جعفر؛ كلاهما عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "اتَّقُوا اللاعِنَينِ" قالوا: وما اللاعناِن يا رسول الله؟ قال: "الذي يَتخلَّى في طريق المسلمين وفي ظِلِّهم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وقد أخرجه عن قُتيبة. وله شاهد عن محمد بن سيرين بإسناد صحيح ولفظه غيرُ هذه، ولم يُخرجه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 664 - أخرجه مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وقد أخرجه عن قُتيبة. وله شاهد عن محمد بن سيرين بإسناد صحيح ولفظه غيرُ هذه، ولم يُخرجه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 664 - أخرجه مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو لعنت کا باعث بننے والے کاموں سے بچو،“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دو لعنت والے کام کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو مسلمانوں کے راستوں اور ان کے سائے کی جگہوں میں قضائے حاجت کرتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے اسے قتیبہ سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے اسے قتیبہ سے روایت کیا ہے۔