حدیث نمبر: 671
أخبرَناه علي بن عيسى بن إبراهيم، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو الحَرَشي حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا زائدة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا عبد الواحد بن زياد كلهم عن الأعمش، عن زيد بن وَهْب، عن عبد الرحمن بن حَسَنة قال: بالَ رسولُ الله ﷺ وهو مستتر بحَجَفَةٍ، فقالوا: تبولُ كما تبولُ المرأة؟ فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ بني إسرائيل كان إذا أصاب أحدَهم البولُ قَرَضَه بالمقاريض، ونهَاهم عن ذلك، فهو يُعذَّبُ في قبره" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ومن شرط الشيخين إلى أن يَبلُغ تفرُّدَ زيد بن وهب بالرواية عن عبد الرحمن بن حَسَنة، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کی اوٹ میں بیٹھ کر پیشاب کیا، تو لوگوں نے کہا: ”آپ ﷺ اس طرح (بیٹھ کر) پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت کرتی ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ جب ان میں سے کسی کو پیشاب کا کوئی قطرہ لگ جاتا تو وہ اسے قینچیوں سے کاٹ ڈالتے تھے، اور ان کے عالم نے انہیں اس سے روکا تھا، تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 671
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، وزائدة: هو ابن قدامة» [ترقيم الرساله 671] [ترقيم الشركة 663]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، وزائدة: هو ابن قدامة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: 'ابو معاویہ' محمد بن خازم ضریر ہیں اور 'زائدہ' سے مراد زائدہ بن قدامہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17758)، وابن ماجه (346)، والنسائي (26)، وابن حبان (3127) من طريق أبي معاوية، بإسناده.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 29/ (17758)، ابن ماجہ (346)، نسائی (26) اور ابن حبان (3127) نے ابو معاویہ (محمد بن خازم الضریر) کے طریق سے ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (22) عن مسدَّد، بإسناده.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود (22) نے مسدد بن مسرہد کے واسطے سے ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والحَجَفَة: الترس من جلد كالدَّرقة.
نوٹ / توضیح: 'الحَجَفَة' سے مراد چمڑے کی بنی ہوئی وہ ڈھال ہے جو 'درقہ' (چمڑے کی ڈھال) کی مانند ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 671 سے ماخوذ ہے۔