حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الله بن يونس، حَدَّثَنَا الحسن بن صالح بن حيٍّ، عن بُكَير بن عامر البَجَلي، عن عبد الرحمن بن أبي نُعْم، عن المغيرة بن شُعبة: أنَّ رسول الله ﷺ مسح على الخُفَّين، فقلت: يا رسول الله، نَسِيتَ؟ قال: "لا، بل أنت نَسِيتَ، بهذا أَمَرني ربي ﷿" (2). قد اتفق الشيخان على إخراج طرق حديث المغيرة بن شعبة في المسح (1)، ولم يُخرجا قوله ﷺ: "بهذا أمرني ربي" وإسناده صحيح!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 606 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 606 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں پر مسح فرمایا، تو میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ بھول گئے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو، میرے رب عزوجل نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے۔“
شیخین نے مغیرہ بن شعبہ کی مسح کے بارے میں دیگر روایات تو نقل کی ہیں لیکن آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ ”میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے“ نقل نہیں کیا، جبکہ اس کی سند صحیح ہے۔
شیخین نے مغیرہ بن شعبہ کی مسح کے بارے میں دیگر روایات تو نقل کی ہیں لیکن آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ ”میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے“ نقل نہیں کیا، جبکہ اس کی سند صحیح ہے۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حَدَّثَنَا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حَدَّثَنَا عمرو بن الرَّبيع بن طارق. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حَدَّثَنَا أبو المثنَّى العَنبَري، حَدَّثَنَا يحيى بن مَعِين، حَدَّثَنَا عمرو بن الرَّبيع بن طارق، أخبرنا يحيى بن أيوب، عن عبد الرحمن بن رَزِين، عن محمد بن يزيد بن أبي زياد - قال يحيى: شيخ من أهل مصر - عن عُبَادة بن نُسَيّ، عن أُبيِّ بن عِمَارة - وقد كان صلَّى مع رسول الله ﷺ القِبلتين - أنه قال: يا رسول الله، أمسَحُ على الخفَّين؟ قال: "نعم" قال: يومًا؟ قال: "ويومَين" قال: وثلاثةً؟ قال: "نَعَم، ما شئتَ" (2). أُبي بن عِمارة صحابيُّ معروف، وهذا إسناد مصري لم يُنسَب واحدٌ منهم إلى جَرْح، وإلى هذا ذهب مالك بن أنس، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ (جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میں موزوں پر مسح کر سکتا ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: ”ایک دن؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور دو دن بھی۔“ انہوں نے پوچھا: ”اور تین دن؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جتنا تم چاہو۔“
ابی بن عمارہ معروف صحابی ہیں اور یہ مصری سند ہے جس کے کسی راوی پر جرح نہیں ہے، اور امام مالک بن انس اسی کے قائل تھے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
ابی بن عمارہ معروف صحابی ہیں اور یہ مصری سند ہے جس کے کسی راوی پر جرح نہیں ہے، اور امام مالک بن انس اسی کے قائل تھے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حَدَّثَنَا أبو نُعيم. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا أحمد بن سَيَّار، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير؛ قالا: حَدَّثَنَا سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن سفيان بن الحَكَم - أو الحكم بن سفيان - قال: كان رسول الله ﷺ إِذا بالَ توضَّأَ ويَنتضِحُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وإنما تركاه للشكِّ فيه، وليس ذلك مما يُوهِنه. وقد رواه جماعة عن منصور عن مجاهد عن الحكم بن سفيان. وقد تابع ابن أبي نَجِيح منصورَ بن المعتمر على روايته أيضًا بالشك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 608 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وإنما تركاه للشكِّ فيه، وليس ذلك مما يُوهِنه. وقد رواه جماعة عن منصور عن مجاهد عن الحكم بن سفيان. وقد تابع ابن أبي نَجِيح منصورَ بن المعتمر على روايته أيضًا بالشك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 608 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سفیان بن حکم (یا حکم بن سفیان) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب پیشاب فرماتے تو وضو کرتے اور پانی چھڑکتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اسے صرف اس میں پائے جانے والے شک کی وجہ سے ترک کیا ہے حالانکہ یہ شک اسے کمزور نہیں کرتا، اور اسے ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اسے صرف اس میں پائے جانے والے شک کی وجہ سے ترک کیا ہے حالانکہ یہ شک اسے کمزور نہیں کرتا، اور اسے ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدَّثَناه علي بن عيسى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن رجل من ثَقِيف، عن أبيه قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ بالَ ثم نَضَحَ فَرْجَه (2).
حافظ طلحہ بابر
قبیلہ ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے پیشاب فرمایا پھر اپنی شرمگاہ (کے مقام) پر پانی چھڑکا۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا أبو معاوية. وأخبرنا أبو يحيى السَّمَرقَندي، حَدَّثَنَا محمد بن نصر، حَدَّثَنَا هنَّاد بن السَّرِيّ، حَدَّثَنَا عبد الله بن إدريس. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق - واللفظ له - أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا شريك، وجَرِير كلهم عن الأعمش، عن شَقِيق قال: قال عبد الله: كنا لا نتوضأُ من مَوطِئ، ولا نَكُف شعرًا ولا ثوبًا (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجا ذِكرَ المَوطِئ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 610 - لم يخرجا ذكر الموطىء
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجا ذِكرَ المَوطِئ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 610 - لم يخرجا ذكر الموطىء
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم (کسی ناپاکی کو) روندنے کی وجہ سے وضو نہیں کرتے تھے، اور نہ ہی (نماز میں) بالوں یا کپڑوں کو سمیٹتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے روندنے (کسی چیز پر پاؤں پڑ جانے) کے ذکر کو روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے روندنے (کسی چیز پر پاؤں پڑ جانے) کے ذکر کو روایت نہیں کیا۔