حدیث نمبر: 614
أخبرنا عبد الرحمن بن حسن الأَسَدي بهَمَذان حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس، حَدَّثَنَا شُعْبة. وأخبرنا محمد بن جعفر العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد، حَدَّثَنَا عبيد الله بن معاذ العَنبَري، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا شعبة، عن أبي بكر بن حفص بن عمر بن سعد، سمع أبا عبد الله مولى بني تَيْم بن مُرّة يحدِّث عن أبي عبد الرحمن: أنه شَهِدَ عبدَ الرحمن بن عوف يَسأَل بلالًا عن وضوءِ النَّبِيّ ﷺ، فقال: كان يخرجُ يقضي حاجَتَه، فآتيهِ بالماء فيتوضأ ويمسح على عِمَامته ومُوقَيهِ (1).
هذا حديث صحيح، فإنَّ أبا عبد الله مولى التيميِّين معروف بالصِّحة والقَبُول! وأما الشيخان فإنهما لم يخرجا ذكرَ المسح على المُوقَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 605 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے وضو کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، میں آپ ﷺ کے لیے پانی لایا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے عمامے اور اپنے موزوں (اوپری موزوں) پر مسح فرمایا۔
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ بنو تیم کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ اپنی صحتِ حدیث اور قبولیت میں معروف ہیں، البتہ شیخین نے موزوں (اوپری موزوں) پر مسح کے ذکر کو روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 614
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي عبد الله وأبي عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 614] [ترقيم الشركة 609] [ترقيم العلميه 605]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي عبد الله وأبي عبد الرحمن.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، مگر یہ سند ابوعبداللہ اور ابوعبدالرحمن کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو داود (153) عن عبيد الله بن معاذ العنبري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (153) میں عبید اللہ بن معاذ العنبری کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23903) عن محمد بن جعفر، عن شعبة، به. بلفظ: يمسح على العمامة وعلى الخفين.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 39/ (23903) میں محمد بن جعفر عن شعبہ کی سند سے روایت کیا ہے، جس کے الفاظ ہیں: "آپ ﷺ عمامے اور موزوں پر مسح کرتے تھے"۔
وأخرج أحمد 39/ (2388)، ومسلم (275)، وابن ماجه (561)، والترمذيّ (101)، والنسائي (122) من طريق كعب بن عُجْرة، عن بلال قال: مسح رسول الله ﷺ على الخفين والخِمار. والخِمار: هو العمامة، وسمِّيت خمارًا لأنّها تخمِّر الرأس، أي: تغطيه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 2388)، مسلم (275)، ابن ماجہ (561)، ترمذی (101) اور نسائی (122) نے کعب بن عجرہ کے واسطے سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ نے موزوں اور خمار پر مسح فرمایا"۔
نوٹ / توضیح: "الخمار" سے مراد یہاں عمامہ (پگڑی) ہے، اسے خمار اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سر کو "تخمیر" یعنی ڈھانپ لیتا ہے۔
وأما الموق: فهو الخُفُّ، فارسيٌّ معرَّب، كما في "النهاية" لابن الأثير.
نوٹ / توضیح: "الموق" سے مراد موزہ ہے، یہ دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے جسے عربی بنا لیا گیا ہے (معرب ہے)، جیسا کہ ابن الاثیر نے "النهایہ" میں ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 614 سے ماخوذ ہے۔