المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ باب: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو، یا کتا ہو، یا جنبی موجود ہو۔
حدیث نمبر: 620
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك، حَدَّثَنَا علي بن إبراهيم الواسطي، حَدَّثَنَا وهب بن جَرِير. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس؛ قالا: حَدَّثَنَا شُعْبة، عن علي بن مُدرِك، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير، عن عبد الله بن نُجَيٍّ، عن أبيه، عن علي، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "لا تَدخُلُ الملائكةُ بيتًا فيه صورةٌ ولا كلبٌ ولا جُنُب" (1).
هذا حديث صحيح، فإنّ عبد الله بن نُجَيٍّ من ثِقات الكوفيين، ولم يُخرجا فيه ذكرَ الجُنُب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 611 - صحيح وعبد الله ثقةحافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا یا جُنبی (جس پر غسل واجب ہو) موجود ہو۔“
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ عبد اللہ بن نجی ثقہ کوفی راویوں میں سے ہیں، البتہ شیخین نے اس میں جُنبی کے ذکر کو روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره دون ذكر الجُنُب، وهذا إسناد ضعيف، نجي - وهو الحضرمي الكوفي - لم يرو عنه غير ابنه عبد الله، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: لا يعجبني الاحتجاج بخبره إذا انفرد. وابنه عبد الله مختلَف فيه.
درجۂ حدیث: جنبی کے ذکر کے علاوہ یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ نَجی الحضرمی الکوفی سے سوائے ان کے بیٹے عبداللہ کے کسی نے روایت نہیں کی؛ ابن حبان کے بقول ان کے تفرّد (تنہا روایت) سے احتجاج کرنا پسندیدہ نہیں۔ ان کے بیٹے عبداللہ بھی مختلف فیہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 2 / (632) و (815)، وأبو داود (227) و (4152)، وابن ماجه (3650)، والنسائي (253) و (4774)، وابن حبان (1205) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (227، 4152)، ابن ماجہ (3650)، نسائی (253، 4774) اور ابن حبان (1205) نے شعبہ بن الحجاج کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له دون قوله: "ولا جنب" حديث أبي طلحة عند البخاريّ (3225) ومسلم (2106)، وحديث عائشة عند مسلم (2104)، وحديث ميمونة عنده أيضًا (2105).
متابعات و شواہد: "جنبی" کے الفاظ کے علاوہ اس روایت کی تائید ابوطلحہ (بخاری 3225، مسلم 2106)، حضرت عائشہ (مسلم 2104) اور حضرت میمونہ (مسلم 2105) کی احادیث سے ہوتی ہے۔
درجۂ حدیث: جنبی کے ذکر کے علاوہ یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ نَجی الحضرمی الکوفی سے سوائے ان کے بیٹے عبداللہ کے کسی نے روایت نہیں کی؛ ابن حبان کے بقول ان کے تفرّد (تنہا روایت) سے احتجاج کرنا پسندیدہ نہیں۔ ان کے بیٹے عبداللہ بھی مختلف فیہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 2 / (632) و (815)، وأبو داود (227) و (4152)، وابن ماجه (3650)، والنسائي (253) و (4774)، وابن حبان (1205) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (227، 4152)، ابن ماجہ (3650)، نسائی (253، 4774) اور ابن حبان (1205) نے شعبہ بن الحجاج کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له دون قوله: "ولا جنب" حديث أبي طلحة عند البخاريّ (3225) ومسلم (2106)، وحديث عائشة عند مسلم (2104)، وحديث ميمونة عنده أيضًا (2105).
متابعات و شواہد: "جنبی" کے الفاظ کے علاوہ اس روایت کی تائید ابوطلحہ (بخاری 3225، مسلم 2106)، حضرت عائشہ (مسلم 2104) اور حضرت میمونہ (مسلم 2105) کی احادیث سے ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 620 سے ماخوذ ہے۔