حدیث نمبر: 616
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حَدَّثَنَا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حَدَّثَنَا عمرو بن الرَّبيع بن طارق. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حَدَّثَنَا أبو المثنَّى العَنبَري، حَدَّثَنَا يحيى بن مَعِين، حَدَّثَنَا عمرو بن الرَّبيع بن طارق، أخبرنا يحيى بن أيوب، عن عبد الرحمن بن رَزِين، عن محمد بن يزيد بن أبي زياد - قال يحيى: شيخ من أهل مصر - عن عُبَادة بن نُسَيّ، عن أُبيِّ بن عِمَارة - وقد كان صلَّى مع رسول الله ﷺ القِبلتين - أنه قال: يا رسول الله، أمسَحُ على الخفَّين؟ قال: "نعم" قال: يومًا؟ قال: "ويومَين" قال: وثلاثةً؟ قال: "نَعَم، ما شئتَ" (2). أُبي بن عِمارة صحابيُّ معروف، وهذا إسناد مصري لم يُنسَب واحدٌ منهم إلى جَرْح، وإلى هذا ذهب مالك بن أنس، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ (جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میں موزوں پر مسح کر سکتا ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: ”ایک دن؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور دو دن بھی۔“ انہوں نے پوچھا: ”اور تین دن؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جتنا تم چاہو۔“
ابی بن عمارہ معروف صحابی ہیں اور یہ مصری سند ہے جس کے کسی راوی پر جرح نہیں ہے، اور امام مالک بن انس اسی کے قائل تھے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 616
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، لجهالة عبد الرحمن بن رزين ومحمد بن يزيد، وقد اختُلف في إسناده على يحيى بن أيوب اختلافًا كثيرًا كما قال الدارقطني في "سننه" (765)، وقال النووي في "شرح مسلم": حديث أُبي بن عمارة في ترك التوقيت حديث ضعيف باتفاق أهل الحديث-» [ترقيم الرساله 616] [ترقيم الشركة 611]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا لجهالة عبد الرحمن بن رزين ومحمد بن يزيد، وقد اختُلف في إسناده على يحيى بن أيوب اختلافًا كثيرًا كما قال الدارقطني في "سننه" (765)، وقال النووي في "شرح مسلم": حديث أُبي بن عمارة في ترك التوقيت حديث ضعيف باتفاق أهل الحديث.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عبدالرحمن بن رزین اور محمد بن یزید کا مجہول ہونا ہے۔ امام دارقطنی کے بقول یحییٰ بن ایوب پر اس سند میں بہت زیادہ اختلاف ہوا ہے۔
اہم نکتہ: امام نووی "شرح مسلم" میں فرماتے ہیں کہ ابی بن عمارہ کی (مسح کی) مدت متعین نہ کرنے والی روایت محدثین کے اتفاق سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو داود (158) عن يحيى بن معين بهذا الإسناد وزاد فيه بين محمد بن يزيد وعبادة بن نُسي أيوبَ بن قَطَن، وهو مجهول أيضًا، وقال أبو داود: قد اختُلف في إسناده وليس بالقوي.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (158) نے یحییٰ بن معین کے واسطے سے روایت کیا ہے، مگر اس میں محمد بن یزید اور عبادہ بن نسی کے درمیان "ایوب بن قطن" کا اضافہ ہے جو کہ خود بھی مجہول ہے۔
درجۂ حدیث: امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں اختلاف ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (557) من طريق عبد الله بن وهب، عن يحيى بن أيوب، به كإسناد أبي داود.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (557) میں عبداللہ بن وہب کے طریق سے یحییٰ بن ایوب سے ابوداؤد جیسی سند کے ساتھ ہی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 616 سے ماخوذ ہے۔