کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا محمد بن سابقٍ، حدثنا إسرائيل، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال: "ليس المؤمنُ بالطَّعَانِ ولا اللَّعّانِ، ولا الفاحشِ ولا البَذِيء" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بهؤلاء الرواة عن آخرهم، ثم لم يخرجاه، وأكثرُ ما يمكن أن يقال فيه أنه لا يوجدُ عند أصحاب الأعمش، وإسرائيلُ بن يونس السَّبِيعي كبيرُهم وسيِّدهم، وقد شاركَ الأعمشَ في جماعة من شيوخه، فلا يُنكَرُ له التفرُّدُ عنه بهذا الحديث (3). وللحديث شاهدٌ آخرُ على شرطهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 29 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بهؤلاء الرواة عن آخرهم، ثم لم يخرجاه، وأكثرُ ما يمكن أن يقال فيه أنه لا يوجدُ عند أصحاب الأعمش، وإسرائيلُ بن يونس السَّبِيعي كبيرُهم وسيِّدهم، وقد شاركَ الأعمشَ في جماعة من شيوخه، فلا يُنكَرُ له التفرُّدُ عنه بهذا الحديث (3). وللحديث شاهدٌ آخرُ على شرطهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 29 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بے ہودہ بکنے والا نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے ان تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن پھر بھی اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اعمش کے (عام) شاگردوں کے ہاں موجود نہیں ہے، حالانکہ اسرائیل بن یونس سبیعی ان کے بڑے شاگرد اور سردار ہیں اور وہ اعمش کے کئی اساتذہ میں ان کے شریک ہیں، لہٰذا اس حدیث میں ان کا اکیلا ہونا (منفرد ہونا) باعثِ نکارت نہیں۔ اس حدیث کا ان دونوں کی شرط پر ایک اور شاہد بھی موجود ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے ان تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن پھر بھی اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اعمش کے (عام) شاگردوں کے ہاں موجود نہیں ہے، حالانکہ اسرائیل بن یونس سبیعی ان کے بڑے شاگرد اور سردار ہیں اور وہ اعمش کے کئی اساتذہ میں ان کے شریک ہیں، لہٰذا اس حدیث میں ان کا اکیلا ہونا (منفرد ہونا) باعثِ نکارت نہیں۔ اس حدیث کا ان دونوں کی شرط پر ایک اور شاہد بھی موجود ہے۔
حَدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن الحسن بن عَمرو الفُقَيمي، عن محمد بن عبد الرحمن ابن يزيد، عن أبيه، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس المؤمنُ بالطَّعّانِ ولا اللَّعّانِ، ولا الفاحش ولا البَذِيء" (1). وللحديث شاهدٌ ثانٍ عن إبراهيم النَّخَعي، لا بدَّ من ذِكْره وإن لم يكن إسناده من شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 30 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 30 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش بکنے والا اور نہ ہی بے ہودہ گفتگو کرنے والا۔“
اس حدیث کا ابراہیم نخعی سے ایک دوسرا شاہد بھی مروی ہے، جس کا ذکر ضروری ہے اگرچہ اس کی سند شیخین کی شرط پر نہیں ہے۔
اس حدیث کا ابراہیم نخعی سے ایک دوسرا شاہد بھی مروی ہے، جس کا ذکر ضروری ہے اگرچہ اس کی سند شیخین کی شرط پر نہیں ہے۔
أخبرَناه أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن ماتَى بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا إسماعيل بن أَبان، حدثنا صَبّاح بن يحيى، عن ابن أبي ليلى، عن الحَكَم، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، أنَّ النبي ﷺ قال: "المؤمنُ ليس بالطَّعّان، ولا الفاحشِ ولا البَذِيءِ" (2). محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى وإن كان يُنسَب إلى سوء الحِفْظ، فإنه أحد فقهاء الإسلام وقُضَاتهم، ومن أكابر أولاد الصحابة والتابعين من الأنصار، رحمة الله تعالى عليهم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 31 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 31 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن طعنہ دینے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بے ہودہ بکنے والا نہیں ہوتا۔“
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اگرچہ برے حافظے کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں، لیکن وہ اسلام کے فقہاء اور قاضیوں میں سے ایک ہیں، اور انصار کے صحابہ و تابعین کی کبار اولاد میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اگرچہ برے حافظے کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں، لیکن وہ اسلام کے فقہاء اور قاضیوں میں سے ایک ہیں، اور انصار کے صحابہ و تابعین کی کبار اولاد میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔
حدثنا أبو محمد دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا محمد بن علي بن زيد (3) الصائغ، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن وعبد العزيز ابن محمد، عن عمرو مولى المطَّلِب، عن المطَّلِب، عن أبي موسى الأَشعَري، أنَّ رسول الله ﷺ قال: مَن عَمِلَ سيئةً فكَرِهَها حين يعملُ، وعَمِلَ حسنةً فسُرَّ بها، فهو مؤمنٌ" (1). قد احتجَّا برُوَاة هذا الحديث عن آخرهم (2)، وهو صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه، إنما خرَّجا (3) في خطبة عمر بن الخطاب "ومَن سَرَّته حَسَنتُه، وساءته سيِّئتُه، فهو مؤمنٌ". وله شاهد بهذا اللفظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 32 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 32 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی برائی کی اور اسے کرتے وقت اسے برا محسوس کیا، اور کوئی نیکی کی اور اس سے اسے خوشی ہوئی، تو وہ مومن ہے۔“
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور یہ ان کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ ”جسے اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے غمزدہ کر دے تو وہ مومن ہے“۔ اس کے لیے ان الفاظ کے ساتھ ایک شاہد بھی موجود ہے۔
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور یہ ان کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ ”جسے اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے غمزدہ کر دے تو وہ مومن ہے“۔ اس کے لیے ان الفاظ کے ساتھ ایک شاہد بھی موجود ہے۔
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا هشام بن أبي عبد الله، عن يحيى بن أبي كَثير، عن زيد بن سَلّام، عن جدِّه ممطور، عن أبي أُمامة: أنَّ رسول الله ﷺ سأله رجل فقال: يا رسول الله، ما الإيمانُ؟ قال: "إذا سَرَّتكَ حَسَنتُك، وساءتكَ سيِّئتُك، فأنت مؤمنٌ" فقال: يا رسول الله، ما الإثمُ؟ قال: "إذا حَكَّ في صدرِك شيءٌ فَدَعْه" (4). وهكذا رواه عليُّ بن المبارك ومَعمَر بن راشد عن يحيى بن أبي كثير. أما حديث علي بن المبارك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 33 - تابعه معمر وعلي بن المبارك وهو على شرطهما_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 33 - تابعه معمر وعلي بن المبارك وهو على شرطهما_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری برائی تمہیں غمزدہ کر دے تو تم مومن ہو۔“ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! گناہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے سینے میں کوئی چیز کھٹکے (تردد پیدا کرے) تو اسے چھوڑ دو۔“
اور اسی طرح اسے علی بن مبارک اور معمر بن راشد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔ رہی علی بن مبارک کی حدیث:
اور اسی طرح اسے علی بن مبارک اور معمر بن راشد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔ رہی علی بن مبارک کی حدیث:
فحدَّثَناه مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا يحيى بن كثير العَنبَري، حدثنا علي بن المبارَك، حدثني يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سَلَّام (1)، عن جده أبي سَلَّام قال: سمعت أبا أُمامة يقول: سأل رجلٌ رسولَ الله ﷺ: ما الإيمانُ؟ قال: "إذا سرَّتكَ حَسَنتُك، وساءتكَ سيِّئتُكَ، فإنك مؤمنٌ" (2). وأما حديث مَعمَر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری برائی تمہیں غمزدہ کر دے، تو یقیناً تم مومن ہو۔“
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سَلّام، عن أبي سَلّام، عن أبي أُمَامة: أنَّ رسول الله ﷺ سُئلَ: ما الإيمانُ؟ فقال: "مَن سَرَّتْه حَسَنتُه، وساءَتْه سيِّئتُه، فهو مؤمنٌ" (3). هذه الأحاديث كلها صحيحة متَّصِلة على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ایمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے غمزدہ کر دے، تو وہ مومن ہے۔“
یہ تمام احادیث شیخین کی شرط پر صحیح اور متصل ہیں۔
یہ تمام احادیث شیخین کی شرط پر صحیح اور متصل ہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان (4)، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثني ابن جابر قال: سمعتُ سُلَيمَ بنَ عامر يقول: سمعتُ عوفَ بن مالك الأَشجعيَّ يقول: نزلنا مع رسول الله ﷺ مَنزِلًا، فاستيقظتُ من الليل، فإذا لا أَرى في العسكر شيئًا أطولَ من مُؤْخِرة رَحْلي، لقد لَصِقَ كلُّ إنسان وبعيرُه بالأرض، فقمت أتخلَّلُ الناسَ حتى دَفَعتُ إلى مَضجَعِ رسول الله ﷺ، فإذا ليس فيه، فوضعتُ يدي على الفِراش، فإذا هو بارد، فخرجتُ أتخلَّلُ الناسَ وأقول: إنّا لله وإنّا إليه راجعون، ذُهِبَ برسول الله ﷺ، حتى خرجتُ من العسكر كلِّه، فنظرتُ سَوَادًا فرَمَيتُ بحجرٍ، فمَضَيتُ إلى السَّوَاد، فإذا معاذُ بن جبل وأبو عُبيدة بن الجرَّاح، وإذا بين أيدينا صوتٌ كدَوِيِّ الرَّحَى، أو كصوت القَصْباء (1) حين يصيبها الريح، فقال بعضنا لبعض: يا قوم، اثبُتوا حتى تُصبِحوا أو يأتيَكم رسول الله ﷺ، قال: فلَبِثْنا ما شاء الله، ثم نادى: "أثَمَّ معاذُ بن جبل وأبو عُبيدة بن الجرَّاح وعوفُ بن مالك؟ " فقلنا: أيْ نَعَم، فأقبلَ إلينا، فخرجنا نمشي معه لا نسألُه عن شيء ولا نخبرُه بشيء، فقَعَدَ على فِراشِه، فقال: "أتدرون ما خَيَّرني به ربِّي الليلةَ؟ " فقلنا: الله ورسوله أعلم، قال: "فإنه خيَّرني بين أن يُدخِلَ نصفَ أُمتي الجنةَ وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعةَ" قلنا: يا رسول الله، ادعُ الله أن يجعلَنا من أهلها، قال: "هي لكلِّ مسلمٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، ورواته كلُّهم ثقات على شرطهما جميعًا، وليس له عِلَّة، وليس في سائر أخبار الشفاعة: "هي لكلِّ مسلم".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 36 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، ورواته كلُّهم ثقات على شرطهما جميعًا، وليس له عِلَّة، وليس في سائر أخبار الشفاعة: "هي لكلِّ مسلم".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 36 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک منزل پر اترے، میں رات کو بیدار ہوا تو مجھے لشکر میں اپنے کجاوے کے پچھلے حصے سے زیادہ اونچی کوئی چیز نظر نہ آئی، ہر انسان اور اونٹ زمین سے چمٹا ہوا (سو رہا) تھا۔ میں لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے بستر تک پہنچا تو آپ ﷺ وہاں نہیں تھے، میں نے بستر پر ہاتھ لگایا تو وہ ٹھنڈا تھا، میں لوگوں کے درمیان سے یہ کہتے ہوئے نکلا کہ «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»، رسول اللہ ﷺ کو کہیں لے جایا گیا ہے، یہاں تک کہ میں پورے لشکر سے باہر نکل گیا۔ میں نے ایک سیاہی (سایہ) دیکھی تو پتھر پھینکا اور اس کی طرف بڑھا، تو وہاں سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما موجود تھے، اور ہمارے سامنے سے چکی کے چلنے جیسی یا ہوا چلنے پر سرکنڈوں کے ہلنے جیسی آواز آ رہی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا: اے لوگو! صبح ہونے تک یا رسول اللہ ﷺ کے آنے تک یہیں جمے رہو۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپ ﷺ نے آواز دی: ”کیا وہاں معاذ بن جبل، ابوعبیدہ بن جراح اور عوف بن مالک موجود ہیں؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے، ہم آپ ﷺ کے ساتھ چلنے لگے، نہ ہم نے آپ ﷺ سے کچھ پوچھا اور نہ ہی آپ ﷺ نے ہمیں کچھ بتایا، یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنے بستر پر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھے اس بات کے درمیان اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے یا پھر مجھے مقامِ شفاعت عطا کیا جائے، تو میں نے شفاعت کو منتخب کر لیا۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں شفاعت پانے والوں میں شامل کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے تمام راوی شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں، اس میں کوئی علت نہیں ہے، اور شفاعت کی دیگر روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے تمام راوی شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں، اس میں کوئی علت نہیں ہے، اور شفاعت کی دیگر روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔