المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيِّ باب: مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 34
فحدَّثَناه مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا يحيى بن كثير العَنبَري، حدثنا علي بن المبارَك، حدثني يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سَلَّام (1)، عن جده أبي سَلَّام قال: سمعت أبا أُمامة يقول: سأل رجلٌ رسولَ الله ﷺ: ما الإيمانُ؟ قال: "إذا سرَّتكَ حَسَنتُك، وساءتكَ سيِّئتُكَ، فإنك مؤمنٌ" (2). وأما حديث مَعمَر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری برائی تمہیں غمزدہ کر دے، تو یقیناً تم مومن ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: أسلم.
فنی نکتہ / علّت: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں تحریف ہو کر "أسلم" ہو گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قلابة - وهو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي - ويحيى بن كثير العنبري. وانظر ما قبله علي بن المبارك: هو الهُنائي البصري.
درجۂ حدیث: (2) حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند ابو قلابہ (عبد الملک بن محمد الرقاشی) اور یحییٰ بن کثیر العنری کی وجہ سے "قوی" ہے۔ علی بن مبارک: الہنائی البصری۔
فنی نکتہ / علّت: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں تحریف ہو کر "أسلم" ہو گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قلابة - وهو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي - ويحيى بن كثير العنبري. وانظر ما قبله علي بن المبارك: هو الهُنائي البصري.
درجۂ حدیث: (2) حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند ابو قلابہ (عبد الملک بن محمد الرقاشی) اور یحییٰ بن کثیر العنری کی وجہ سے "قوی" ہے۔ علی بن مبارک: الہنائی البصری۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 34 سے ماخوذ ہے۔