کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: دشمن کی سر زمین کی طرف کوئی چیز فروخت کرنا جس سے وہ مسلمانوں کے خلاف قوت حاصل کریں
٣٥٥٩٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الحسن قال: لا يحل لمسلم أن يحمل إلى عدو المسلمين طعاما ولا سلاحا يقويهم به على المسلمين فمن فعل ذلك فهو فاسق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ دشمنوں کو کھانا یا اسلحہ بھیجے (فروخت کرے) جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے خلاف قوت حاصل کریں : جو ایسا کرے وہ فاسق ہے۔
٣٥٦٠٠ - حدثنا محمد بن بكر (عن) (١) (ابن) (٢) جريج عن عطاء أنه كره حمل السلاح إلى العدو، قال: قلت له: تحمل الخيل إليهم؟ قال: فأبى ذلك وقال: أما ما يقويهم للقتال فلا، وأما غيره فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کو ناپسند کرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : گھوڑے فروخت کرنا کیسا ہے ؟ انہوں نے اس کا بھی انکار کیا، اور فرمایا : جس چیز سے وہ جنگ میں قوت حاصل کریں وہ نہ فروخت کرے، اس کے علاوہ چیزوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٣٥٦٠٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: نهى عمر بن عبد العزيز أن (تحمل) (١) (الخيل) (٢) إلى أرض الهند.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ارض ھند کی طرف گھوڑوں کی فروخت سے منع فرمایا۔
٣٥٦٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه كره أن يحمل السلاح والكراع إلى أرض العدو للتجارة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اسلحہ یا گھوڑا دشمن کی سر زمین میں تجارت کیلئے لے جانے کو ناپسند کرتے تھے۔
٣٥٦٠٤ - حدثنا عبد الرحيم عن عبيدة عن إبراهيم أنه كان يكره أن يحمل إلى عدو المسلمين سلاح أو منفعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم بھی اسلحہ اور کوئی منافع بخش چیز لے جانے کو ناپسند کرتے تھے۔
٣٥٦٠٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن يونس عن (الحسن) (١) وابن سيرين أنهما كرها بيع السلاح في الفتنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ جنگ کے دنوں میں اسلحہ کی بیع کو ناپسند کرتے تھے۔
٣٥٦٠٦ - حدثنا يعلى بن (عبيد) (١) قال: ثنا أبو حيان عن يونس عن الحسن وابن سيرين أنهما كرها بيع السلاح في الفتنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے اسی طرح مروی ہے۔
٣٥٦٠٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن (الحسن) (١) قال: لا يبعث إلى أهل الحرب (شيء) (٢) من السلاح والكراع، ولا ما (يستعان به) (٣) على السلاح والكراع.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل حرب کی طرف اسلحہ یا گھوڑا نہیں بھیجیں گے، اور نہ ہی اسلحہ اور گھوڑے پر مدد حاصل کریں گے۔
٣٥٦٠٨ - حدثنا شاذان قال: ثنا أبان العطار عن قتادة قال: كان يكره بيع السلاح في القتال.