کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: طلاق یافتہ عورت کا خاوند(جس کے پاس رجوع کا حق ہو) اس کے پاس آنے سے پہلے اجازت لے گا یا نہیں؟
٢٠٠٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن ابن أبي ليلى عن نافع عن ابن عمر ⦗٤٠٧⦘ أنه كان إذا طلق طلاقًا يملك الرجعة لم يدخل (حتى) (١) يستأذن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ آدمی جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے پاس رجوع کا حق تھا تو وہ اس کے پاس جانے سے پہلے اجازت طلب کرے گا۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب فرمایا کرتے تھے کہ وہ جوتوں کی آواز سے اسے اطلاع دے گا۔
٢٠٠٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن عبيد اللَّه (بن عمر) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين فكان يستأذن عليها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں تھیں اور وہ ان کے پاس جانے سے پہلے اجازت لیا کرتے تھے۔
٢٠٠٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: تعتد المطلقة في بيت زوجها، ولا تكتحل (بكحل) (١) زينة، ولا يدخل عليها إلا بإذن، ولا يكون معها في بيتها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق یافتہ عورت اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی اور وہ زینت کے لئے سرمہ نہیں لگائے گی اور اس کا خاوند اس کی اجازت سے ہی اس کے پاس آسکتا ہے۔ اور وہ اس کے ساتھ اس کے کمرے میں نہیں ہوگا۔
٢٠٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا دخل عليها (فليستأذن) (١) وليتنحنح، ولا (يغترنها) (٢) بدخول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی (اپنی طلاق یافتہ عدت گزارنے والی) بیو ی کے پاس جانے لگے تو اسے اپنی آمد کا احساس دلا دے اور گلاصاف کرنے کی آواز نکال لے، اچانک اس کے پاس بلا اطلاع داخل نہ ہو۔
٢٠٠٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبد الأعلى) (١) عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: إذا طلقها تطليقة فإنه يستأذن عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بیوی کو ایک طلاق دے دی تو اس کے پاس جانے سے پہلے اجازت طلب کرے۔
٢٠٠٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گلا صاف کرکے اسے اپنی آمد کا احساس دلائے۔
٢٠٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن ربيع عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گلا صاف کرکے اسے اپنی آمد کا احساس دلائے۔
٢٠٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الصمد بن عبد الوارث عن هشام عن قتادة سئل عن رجل طلق امرأته تطليقة يستأذن عليها؟ قال: (يصوت ويتنحنح) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دے تو کیا اس کے پاس آنے سے پہلے اجازت طلب کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں وہ آواز دے اور گلا صاف کرنے کی آواز نکالے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے لئے اس عورت کے بال دیکھنا درست نہیں ہے۔