کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں
١٩٥٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ابن (جريج) (١) عن عطاء أن امرأة أتت النبي تشكو زوجها قال: (تردين عليه ما (أخذت) (٢) منه؟ "، قالت: نعم، وأزيده قال: "أما زيادة فلا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضور ﷺ کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی، آپ نے فرمایا کہ جو تم نے اس سے لیا تھا اسے واپس دے دیا ؟ اس نے کہا ہاں میں نے زیادہ دے دیا، آپ نے فرمایا کہ زیادتی نہیں کرسکتی۔
١٩٥٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ليث عن الحكم عن علي قال: لا يأخذ منها أكثر مما أعطاها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں۔
١٩٥٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) إدريس عن ليث عن الحكم عن (علي) (٢) مثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
١٩٥٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (١) عبد الرزاق عن معمر عن بن طاوس عن أبيه قال: لا يحل له أن يأخذ منها أكثر مما أعطاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں۔
١٩٥٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن يحيى بن بشر عن عكرمة قال: لا يأخذ منها أكثر مما أعطاها [فإن أخذ؛ ردّ عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں، اگر لیا تو واپس دینا ہوگا۔
١٩٥٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حميد عن الحسن أنه كره أن يأخذ منها أكثر مما أعطاها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں۔
١٩٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن يزيد عن سفيان (بن) (١) حسين (عن) (٢) الزهري والحسن (قالا) (٣): لا يأخذ منها أكثر مما أعطاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں۔
١٩٥٥٧ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي (عن الزهري) (١) وعطاء وعمرو بن شعيب قالوا: لا يأخذ منها (إلا ما أعطاها زوجها) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری، حضرت عطاء اور حضرت عمرو بن شعیب s فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں۔
١٩٥٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن أبي حصين عن الشعبي أنه كره أن يأخذ منها أكثر مما أعطاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں۔
١٩٥٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن سعيد بن المسيب أنه كره أن يأخذ (منها) (١) أكثر مما أعطاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں۔
١٩٥٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا فكرها أن يأخذ منها أكثر مما أعطاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا تو ان دونوں نے فرمایا کہ مہر سے زیادہ معاوضہ خلع کے لئے لینا درست نہیں۔
١٩٥٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان عن ميمون قال: من خلع امرأته (وأخذ) (١) منها أكثر مما أعطاها فلم يسرح بإحسان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے اپنی بیوی سے مہر سے زیادہ معاوضہ لیا اس نے احسان کے ساتھ رخصت نہیں کیا۔
١٩٥٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن أبي حنيفة عن عمار بن عمران الهمداني عن أبيه عن علي أنه كره أن يأخذ منها (أكثر) (١) مما أعطاها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرتے ہوئے مہر سے زیادہ معاوضہ لینا درست نہیں۔
١٩٥٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حميد (عن) (١) رجاء (ابن) (٢) حيوة أنه سأله: كيف كان الحسن يقول في المختلعة؟ فقال: إنه كان يكره أن يأخذ منها فوق ما أعطاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ حسن رحمہ اللہ خلع یافتہ کے بارے میں کیا فرمایا کرتے تھے، انہوں نے فرمایا کہ وہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ مہر سے زیادہ معاوضہ خلع لے۔ حضرت رجائ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کہ قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد والی آیت پڑھو جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو دونوں پر اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ عورت کچھ فدیہ دے دے۔
١٩٥٦٤ - فقال رجاء: قال قبيصة بن ذؤيب: اقرأ الآية التي بعدها: ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ (أَلَّا) (١) يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ [البقرة: ٢٢٩].