١٨٣٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم بن بشير عن الشيباني عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حسن d فرماتے ہیں کہ مریض کا شادی کرنا اور خریدو فروخت کرنا جائز ہے۔
١٨٣٢٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم في المريض (١) يتزوج قال: هو جائز من غير (الثلث) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا مریض کے لئے شادی کرنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ثلث کے علاوہ میں جائز ہے۔
١٨٣٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن (١) الحكم (٢) قال: أراد (عبد الرحمن) (٣) ⦗٥٥١⦘ ابن أم الحكم أن يشتري ثمنه من (بنت) (٤) جرير وهو مريض فأبت فتزوج عليها ثلاثًا وهو مريض فجاز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن ابن ام الحکم رحمہ اللہ نے حالت مرض الموت میں جریر کی بیٹی سے ایک ثمن مال کے بدلے نکاح کا ارادہ کیا تو انہوں نے انکار کیا اور جب حالت مرض میں ایک تہائی مال پر مہر کا ارادہ کیا تو اس نکاح کو درست قرار دیا گیا۔
١٨٣٢٨ - [حدثنا أبو داود الطيالسي عن حماد بن (سلمة) (١) عن داود عن الشعبي قال: إن معاوية أجازه] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے جائز قرار دیا۔
١٨٣٢٩ - حدثنا أبو داود عن عبد اللَّه بن يزيد الباهلي قال: سألت عطاء عن (الرجل) (١) يتزوج وهو مريض أيجوز ذلك؟ فقال: إن الناس يقولون إنه (يجوز) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یزید باہلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو حالت مرض الموت میں شادی کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے۔
١٨٣٣٠ - حدثنا أبو داود عن حماد بن سلمة عن قتادة عن الحسن (في) (١) (الرجل) (٢) يتزوج وهو مريض قال: إن كان مضارًا لم يجز، وإن كان إنما تزوجها (لتقوم) (٣) عليه (فهو) (٤) جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرض الموت میں ورثاء کو نقصان پہنچانے کے لئے شادی کرے تو یہ درست نہیں اور اگر خدمت کے لئے شادی کرے تو جائز ہے۔
١٨٣٣١ - حدثنا غندر عن (شعبة) (١) عن عبد الخالق عن حماد في ⦗٥٥٢⦘ (الرجل) (٢) يتزوج في مرضه قال: هو من (ثلثه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرض الموت میں ثلث مال کے عوض شادی کرنا جائز ہے۔
١٨٣٣٢ - حدثنا (١) أبو عاصم عن ابن (جريج) (٢) قال: سألت عطاء عن المريض يتزوج؟ قال: ما أراه إلا (حدثًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے مریض کے شادی کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ میرے نزدیک تو ایک نئی چیز ہے۔
١٨٣٣٣ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في الرجل يتزوج في مرضه قال: لا يجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ مرض الموت میں شادی کرنا درست نہیں ہے۔
١٨٣٣٤ - حدثنا أبو (داود) (١) عن خليفة بن غالب قال: سألت (نافعًا) (٢) عنه فقال: هو جائز وترثه وتأخذ صداقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلیفہ بن غالب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے مرض الموت میں شادی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جائز ہے۔ وہ وارث بھی ہوگی اور مہر بھی لے گی۔
١٨٣٣٥ - حدثنا أبو داود عن (خليفة) (١) بن (غالب) (٢) عن نافع (أن) (٣) ابن أبي ربيعة تزوج وهو مريض أراد أن ترثه وكان بينه وبينها قرابة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی ربیعہ رحمہ اللہ نے حالت مرض الموت میں ایک عورت سے شادی کی، وہ اسے اپنا وارث بنانا چاہتے تھے۔ ان کے اور اس عورت کے درمیان ایک رشتہ تھا۔