١٦٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن محمد بن سوقة عن سعيد بن جبير في قوله: ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: ١٩٦]، قال: من وجد زادًا وراحلة فقد وجب عليه الحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو شخص زاد راہ اور سواری پالے اس پر حج فرض ہے۔
١٦٤٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم بن (يزيد) (١) عن محمد بن عباد بن جعفر عن ابن عمر قال: قام رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ما يوجب الحج؟ قال: "زاد وراحلة"، قال: يا رسول اللَّه فما الحاج؟ قال: "الشعث التفل"، قال فقال: يا رسول اللَّه فما أفضل الحج؟ قال: "العج والثج" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا چیز حج کو واجب کرتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زاد راہ اور سواری، اس شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حج کس چیز کا نام ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : غبار آلود ہونا اور بدبودار ہونا، اس شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! افضل حج کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس میں بلند آواز سے تلبیہ پڑھا جائے اور قربانی کی جائے۔
١٦٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا روح بن عبادة عن زكريا بن إسحاق عن ابن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ قال: زاد وراحلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ { مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } سے مراد زاد راہ اور سواری ہے۔
١٦٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن خالد (بن) (١) أبي كريمة عن رجل عن ابن الزبير: على قدر القوة (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر فرماتے ہیں کہ اتنی خوراک کہ جس سے قوت اور طاقت حاصل ہو سکے۔
١٦٤٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي (جناب) (١) عن الضحاك عن ابن عباس في قوله: ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ﴾ قال: الزاد والبعير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ زاد راہ اور سواری مراد ہے۔
١٦٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن يونس عن الحسن عن النبي ﷺ قال: "الزاد والراحلة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زاد راہ اور سواری والے پر حج فرض ہے۔
١٦٤٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن عن النبي ﷺ بمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
١٦٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن في قوله: ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ (قال) (١): السبيل: زاد وراحلة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } کے متعلق فرماتے ہیں السبیل سے مراد زاد راہ اور سواری ہے۔
١٦٤٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عن عطاء قال: قال عمر: ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ قال: زاد وراحلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ زاد راہ اور سواری مراد ہے، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص گنجائش پائے اور اس کے درمیان کوئی چیز (رکاوٹ) حائل نہ ہو، حضرت عطاء نے فرمایا ہے سبیلا (راستہ) ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔
١٦٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن داود عن عطاء قال: زاد وراحلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں زاد راہ اور سواری مراد ہے۔
١٦٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن سوقة عن سعيد بن جبير قال: زاد وراحلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں زاد راہ اور سواری ہو تو حج فرض ہے۔
١٦٤٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن سوقة عن سعيد بن جبير بمثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے اسی طرح مروی ہے۔
١٦٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن هشام عن الحسن قال رجل: يا رسول اللَّه ما السبيل إليه؟ قال: "الزاد والراحلة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی طرف راستہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس زاد راہ اور سواری ہو۔
١٦٤٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن رجل يقال له خالد عن ابن الزبير (١) ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ قال: قدر (القوة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } سے مراد انسانی قوت کی بقدر ہے۔
١٦٤٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عمران بن (حدير) (١) عن النزال (بن عمار) (٢) عن ابن عباس قال: من ملك ثلاثمائة درهم وجب عليه الحج وحرم عليه نكاح الإماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص تین سو دراہم کا مالک ہو اس پر حج واجب ہے اور باندیوں سے نکاح کرنا اس پر حرام ہے۔
١٦٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سعيد بن (خثيم) (١) عن أخيه معمر بن خثيم (عن أبي جعفر) (٢) قال قلت له: يرحمك اللَّه ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ فما السبيل؟ قال: أن يكون لك راحلة و (بتات) (٣) من زاد، تمشي عقبة وتركب عقبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر بن خثیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، { مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تیرے پاس سواری ہو، اور کچھ زاد راہ ہو تو کبھی پیدل چلے اور کبھی سوار ہو۔