١٦٤٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن خصيف عن مجاهد قال: ليس على (أحد من) (١) أهل مكة متعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر تمتع نہیں ہے۔
١٦٤٢٤ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه قال: ليس على أهل مكة أمتعة وليس عليهم إحصار، إنما إحصارهم أن يطوفوا بالبيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر تمتع نہیں ہے اور ان پر احصار (رکاوٹ) بھی نہیں ہے، بیشک ان کا احصار یہ ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کریں۔
١٦٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن هشام عن أبيه قال: ليس على أهل مكة متعة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر تمتع نہیں ہے۔
١٦٤٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن هشام بن حجير عن طاوس قال: ليس على أهل مكة متعة، ثم قرأ: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [البقرة: ١٩٦]، فإن فعلوا ثم حجوا فعليهم مثل ما على الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر تمتع نہیں ہے، پھر آپ نے قرآن پاک کی آیت تلاوت فرمائی { ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ } پس اگر وہ ایسا کریں پھر وہ حج کریں تو ان پر وہی ہے جو لوگوں پر ہے۔
١٦٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر بن أيوب الموصلي عن جعفر بن برقان عن ميمون قال: ليس على أهل مكة ولا من (توطن) (١) مكة متعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر اور اس پر جو مکہ کا قریبی رہائشی ہو تمتع نہیں ہے۔
١٦٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه قال: المتعة للناس أجمعين إلا أهل مكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ مکہ والوں کے علاوہ تمام لوگوں پر تمتع ہے۔
١٦٤٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: ليس على أهل مكة متعة ولا إحصار، إنما (يبقون) (١) حتى (يقضوا) (٢) (حجتهم) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر تمتع اور احصار نہیں ہے، بیشک ان کو گھیرا جائے گا، (کام میں لگایا جائے گا) حتی کہ وہ اپنا حج مکمل کرلیں۔