کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ جس پر اونٹ کی قربانی لازم ہو وہ اس کی قربانی مکہ مکرمہ میں کرے
١٦٠٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) عبدة عن (وقاء) (٢) بن إياس عن (فريس) (٣) (ابن) (٤) صعصعة قال: سمعت رجلًا (سأل) (٥) ابن عمر فقال: (حلفت) (٦) أو جعلت عليّ بدنة، أنحرها (بأرضي) (٧) التي أنا بها؟ فقال: لا تنحرها دون محل البدن، فقال الرجل: إنما (٨) قلت: أنا أنحرها (بأرضي) (٩) التي أنا (بها) (١٠)؟ فأبى عبد اللَّه بن عمر فقال: من شاء زين له الشيطان (١١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ میں نے قسم اٹھائی یا اپنے اوپر اونٹ کی قربانی کو لازم کیاٗ کیا میں اس کو اس زمین پر ذبح کرلوں جہاں میں ہوں ؟ فرمایا نہیں ‘ اونٹ کے محل کے علاوہ اس کو ذبح نہ کرو ‘ اس شخص نے عرض کیا کہ میں نے کہا تھا کہ جس جگہ میں ہوں وہیں پر ذبح کروں گا ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کا انکار فرمایا اور فرمایا کہ شیطان جس کے لئے چاہتا ہے مزین کردیتا ہے۔
١٦٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) (وقاء) (٢) عن سعيد بن جبير قال: ذكرت له قول ابن عمر: انحرها بمكة، فقال: ما شعرت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ورقائ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کے سامنے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کو ذکر کیا کہ اس کو مکہ مکرمہ میں ذبح کرو ‘ آپ نے فرمایا کہ تو اس کو نہیں سمجھا۔
١٦٠٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن ‘ حضرت شعبی اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس پر اونٹ کی قربانی لازم ہو وہ مکہ میں قربانی کرے اور جو شخص جزور اور گائے (مؤنث) بولے تو وہ جہاں چاہے اور جہاں کی نیت کرے وہاں قربانی کرے۔
١٦١٠٠ - وإسماعيل بن سالم عن الشعبي وعبد الملك عن عطاء قالوا: من جعل عليه بدنة فبمكة، وإذا قال: جزور أو بقرة فحيث (شاء وحيث نوى) (١).
١٦١٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام عن ليث عن عطاء قال: إذا جعل الرجل عليه بدنة فلينحرها حيث سمى، فإن لم يسم فلينحرها بمكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے اوپر اونٹ لازم کرے تو جس جگہ کا نام لیا ہے وہاں پر اس کی قربانی کرے ‘ اور اگر کسی جگہ کا نام نہیں لیا تو پھر مکہ میں ذبح کرے۔
١٦١٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محبوب) (١) القواريري عن مالك بن حبيب قال: سمعت سالم بن عبد اللَّه وسئل عن البدن فقال: لا تغني بدنة إلا بهذا البلد يعني مكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبداللہ سے اونٹ کی قربانی کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا کہ اس نذر کو مکہ کے علاوہ کہیں اور پورا نہ کرو۔
١٦١٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبيه عن عبد الكريم عن سعيد بن جبير وعكرمة (قالا: لا محل) (١) للبدن دون البيت العتيق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اونٹ کی قربان گاہ مکہ (کعبہ) کے علاوہ اور کوئی نہیں۔
١٦١٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (نعيم) (١) عن هشام عن قتادة عن سعيد ابن المسيب في الرجل يجعل عليه بدنة قال: ينحرها حيث (شاء، حيث) (٢) نوى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس پر اونٹ کی قربانی لازم ہو وہ اس کو جہاں چاہے ذبح کرے اور جس جگہ کی نیت کرے وہاں ذبح کرے۔
١٦١٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن جابر عن (جهم) (١) البكري أن رجلًا نذر أن ينحر (بدنة) (٢) بالكوفة فسأل ابن مسعود فقال: انحرها حيث شئت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جہم البکری سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ کوفہ میں اونٹ ذبح کرے گا پھر حضرت ابن مسعود سے دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ جہاں چاہو ذبح کرو۔
١٦١٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) جبلة قال: سمعت ابن عمر يقول: من سمى (أو نذر) (٢) بدنة فلا محل لها دون البيت، ومن سمى جزورًا أو بقرة فحيث شاء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص لفظ بدنۃ کی (مذکر) نذر مانے وہ اس کو مکہ میں ہی ذبح کرے اور جو اونٹنی یا گائے کی نذر مانے وہ جہاں چاہے ذبح کرے۔
١٦١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حسن فرماتے ہیں کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔
١٦١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة (عن) (١) (عبيد) (٢) اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: من نذر بدنة فلا ينحرها إلا بمنى أو مكة، ومن نذر جزورًا فلينحرها حيث شاء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص اونٹ کی نذر مانے تو وہ اس کو منٰی یا مکہ میں ذبح کرے اور جو اونٹنی کی نذر مانے وہ جہاں چاہے اس کو ذبح کرے۔
١٦١١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالا: إذا قال: "علي هدي" فبمكة، وإذا قال: بدنة فحيث شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب اور حسن فرماتے ہیں جب یوں نذر مانے کہ مجھ پر ھدی ہے تو مکہ مکرمہ میں ذبح کرے اور جب بدنہ بولے تو جہاں چاہے ذبح کرے۔
١٦١١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا كثير بن هشام عن جعفر عن ميمون قال: من جعل عليه بدنة فإنه لا ينحرها إلا بمكة، ومن جعل عليه جزورًا نحرها حيث شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ جو اونٹ کو اپنے اوپر لازم کرے وہ مکہ مکرمہ ہی میں ذبح کرے اور جو اونٹنی کی نذر مانے وہ جہاں چاہے ذبح کرے۔