١٤٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت: خرجنا مع النبي ﷺ لا نرى إلا الحج (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم نے صرف آپ کو حج ہی ادا کرتے ہوئے دیکھا۔
١٤٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (أفلح) (١) عن القاسم عن عائشة قالت: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ (مهلين) (٢) بالحج (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے نکلے۔
١٤٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن هشام عن ابن سيرين قال: أفرد أصحاب رسول اللَّه ﷺ الحج بعده أربعين سنة، وهم كانوا (لسنته) (١) أشد أتباعًا، (أبو) (٢) بكر وعمر وعثمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے چالیس سال بعد تک حج افراد کیا، حالانکہ وہ لوگ (ابو بکر، عمر، عثمان) سنت پر زیادہ سختی سے عمل پیرا تھے۔
١٤٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر وسفيان عن أبي حصين عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه أن أبا بكر وعمر جردا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے حج افراد فرمایا : سفیان راوی نے حضرت عثمان کا بھی اضافہ فرمایا ہے۔
١٤٨٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن شعبة (عن مغيرة) (١) (عن إبراهيم) (٢) قال: أفرد الحج أبو بكر وعمر وعثمان وعلقمة والأسود (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علقمہ اور حضرت الاسود نے حج افراد کیا۔
١٤٨٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب قال: سألت سليمان ابن يسار عن الجمع بين الحج والعمرة فقال: (لا نحب) (١) أن نخلط بحجنا شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے حج وعمرہ کو جمع کرنے کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہم اپنے حج کے ساتھ کوئی دوسری (عبادت) چیز ملانا پسند نہیں کرتے۔
١٤٨٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن (أبي) (١) زياد عن مجاهد قال: قال ابن الزبير: أفردوا الحج ودعوا قول (أعماكم) (٢) هذا -يعني ابن عباس- (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ حج افراد کرو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو چھوڑ دو ۔
١٤٨٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم أنه كره (الإقران) (١) والمتعة وقال: التجريد أحب إلي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم حج قران اور حج تمتع کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے کہ حج افراد میرے نزدیک پسندیدہ ہے۔
١٤٨٩٦ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن صالح العكلي عن الشعبي قال: التجريد أحب إلي] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حج افراد میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔
١٤٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر (عن) (١) (عمر أنه) (٢) حج (٣) خلافته كلها يفرد الحج (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے اپنی خلافت میں تمام حج، حج افراد کیے۔
١٤٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل (بن) (١) إبراهيم عن أبي حمزة عن إبراهيم عن الأسود قال: قال عبد اللَّه بن مسعود: نسكان أحب إليّ أن يكون لكل واحد منهما شعث وسفر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ دو ارکان اور عمل میرے نزدیک ہر چیز سے زیادہ پسندیدہ ہیں، پراگندہ حال ہونا اور سفر کرنا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت الاسود نے حج اور عمرہ کے درمیان اسی بار سفر کیا لیکن کبھی ان کو جمع نہیں کیا اور حضرت عبد الرحمن بن الاسود نے ساٹھ سفر کیے لیکن کبھی حج وعمرہ کو جمع نہ فرمایا۔
١٤٩٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن محمد بن أبي إسماعيل قال: خرجت مع إبراهيم ومعنا أصحاب لنا، فأحرموا جميعًا وجردوا الحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابو اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں ابراہیم کے ساتھ سفر پر نکلا ہمارے ساتھ ہمارے کچھ اور ساتھی بھی تھے، ہم سب نے مل کر حج افراد کے لیے احرام باندھا۔