٨٠٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا شريك عن عبد الملك بن عمير عن زياد الحارثي عن أبي هريرة قال: رأيت النبي ﷺ صلى وهما عليه وخرج وهما عليه يعني نعليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جوتیوں میں نماز پڑھی اور جب باہر تشریف لائے تو آپ نے جوتیاں پہن رکھی تھیں۔
٨٠٧٤ - حدثنا عباد بن عوام عن حسين المكتب عن عمرو بن شعيب عن أبيه ⦗١٩٩⦘ عن جده أن النبي ﷺ كان يصلي حافيا (ومنتعلا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب کے دادا فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ننگے پاؤں بھی نماز پڑھی اور جوتیاں پہن کر بھی۔
٨٠٧٥ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) (شعبة) (٢) عن النعمان بن سالم عن ابن (أبي) (٣) أوس عن جده (أن) (٤) النبي ﷺ (٥) صلى في نعليه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوس کے دادا فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوتوں میں نماز ادا فرمائی۔
٨٠٧٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن النعمان بن سالم عن ابن (أبي) (١) أوس عن جده عن النبي ﷺ بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٨٠٧٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن (السدي) (١) عمن سمع عمرو بن حريث أن النبي ﷺ صلى في نعليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حریث فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوتوں میں نماز ادا فرمائی۔
٨٠٧٨ - حدثنا وكيع عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال العدوي عمن سمع الأعرابي يقول: رأيت رسول اللَّه ﷺ يصلي في نعلين من بقر (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اعرابی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گائے کے چمڑے میں بنے جوتوں میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
٨٠٧٩ - حدثنا حفص عن ابن جريج قال: سألت عطاء (أيصلي) (١) الرجل في نعليه؟ فقال: نعم، قد صلى رسول اللَّه ﷺ في نعليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سوال کیا کہ کیا آدمی اپنی جوتیوں میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جوتیوں میں نماز ادا فرمائی ہے۔
٨٠٨٠ - حدثنا حفص عن ابن أبي (ليلى) (١) عن [الحكم (عن) (٢) عبد الرحمن ابن أبي ليلى أن النبي ﷺ صلى في نعليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جوتیوں میں نماز ادا فرمائی۔
٨٠٨١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن] (١) الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: صلى رسول اللَّه ﷺ في نعليه، فصلى الناس في نعالهم، فخلع فخلعوا فلما صلى قال: "من شاء أن يصلي في نعليه فليصل، ومن شاء أن يخلع فليخلع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جوتیوں میں نماز ادا فرمائی تو لوگ بھی جوتیاں پہن کر نماز پڑھنے لگے۔ آپ نے اپنے جوتے اتارے تو لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا کہ جو اپنے جوتوں میں نماز پڑھنا چاہے جوتوں میں پڑھ لے اور جو جوتے اتار کر نماز پڑھنا چاہے وہ اپنے جوتے اتار کر نماز پڑھ لے۔
٨٠٨٢ - حدثنا عبيد (بن) (١) سعيد عن شعبة عن أبي (مسلمة) (٢) قال سألت ⦗٢٠١⦘ أنسا (أيصلي) (٣) الرجل في نعليه؟ فقال: قد صلى رسول اللَّه ﷺ في نعليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے سوال کیا کہ کیا آدمی اپنے جوتے پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز ادا فرمائی ہے۔
٨٠٨٣ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: خلع رسول اللَّه ﷺ نعليه وهو في الصلاة فخلع الناس نعالهم ثم لبسهما فلم ير نازعهما بعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں اپنے جوتے اتارے تو لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار لئے، پھر آپ نے انہیں پہن لیا ، پھر اس کے بعد انہیں اتارتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
٨٠٨٤ - حدثنا أبو أسامة عن أبي العميس عن القاسم قال: كان عبد اللَّه يصلي في نعليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ جوتے پہن کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔
٨٠٨٥ - حدثنا (عبدة) (١) وأبو خالد عن عثمان بن حكيم قال، رأيت أبا جعفر وعلي بن حسين يصليان في نعالهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن حکیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین جوتے پہن کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔
٨٠٨٦ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن محمد قال: قلت لشريح: أصلي في نعلي فلم يكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح سے سوال کیا کہ کیا میں اپنے جوتوں میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
٨٠٨٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي خالد قال: رأيت الأسود يصلي في نعليه ورأيت أبا عمرو الشيباني يضرب الناس إذا خلعوا نعالهم في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اسود کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے اور حضرت ابو عمرو شیبانی نماز میں جوتے اتارنے پر لوگوں کو مارا کرتے تھے۔
٨٠٨٨ - حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) زياد بن فياض عن شيخ لهم أن النبي ﷺ صلى في نعل مخصوفة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چمڑے کے ایک جوتے میں نماز ادا فرمائی۔
٨٠٨٩ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد قال: رأيت إبراهيم التيمي يؤم ⦗٢٠٢⦘ قومه (عليه (نعلاه)) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو دیکھا کہ وہ جوتے پہن کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔
٨٠٩٠ - حدثنا ابن فضيل عن هشام عن أبيه أنه كان يصلي في نعليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ جوتے پہن کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔
٨٠٩١ - حدثنا عبدة عن جويبر عن الضحاك قال: كان عصر (يشتد) (١) على الناس في خلع نعالهم في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نماز میں جوتے اتارنے کے معاملے میں لوگوں پر سختی فرمایا کرتے تھے۔
٨٠٩٢ - حدثنا أبو (خالد) (١) عن يزيد مولى سلمة قال: رأيت سلمة يصلي في نعليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید مولی سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
٨٠٩٣ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم أنه كان يصلي في نعليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم جوتے پہن کر نماز پڑھا کرتے تھے۔
٨٠٩٤ - [حدثنا هشيم عن أبي (حمزة) (١) قال: رأيت ابن عباس يصلي في نعليه] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
٨٠٩٥ - [[حدثنا ابن فضيل عن الحسن بن (عبيد اللَّه) (١) قال: كان إبراهيم يكره ⦗٢٠٣⦘ خلع النعال في الصلاة ويقول: وددت أن إنسانا محتاجا (أتى) (٢) المسجد فأخذ نعالهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نماز میں جوتے اتارنے کو مکروہ خیال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی محتاج انسان مسجد آئے اور ان کے جوتے لے جائے۔
٨٠٩٦ - حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه أنه كان يصلي في نعليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
٨٠٩٧ - [حدثنا (عفان) (١) قال: ثنا حماد بن سلمة عن عبد اللَّه بن إياس الحنفي عن أبيه قال: رأيت عثمان يصلي في نعليه] (٢)]] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس حنفی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
٨٠٩٨ - حدثنا أبو (أسامة) (١) (عن) (٢) عبيد اللَّه بن عمر قال: رأيت القاسم وسالمًا يصليان في نعالهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
٨٠٩٩ - حدثنا هشيم عن أبي المقدام قال: رأيت سعيد بن المسيب وعطاء بن يسار وسالما والقاسم يصلون في نعالهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مقدا م فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب، حضرت عطاء بن یسار، حضرت سالم اور حضرت قاسم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
٨١٠٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد الرحمن بن (خضير) (١) قال: رأيت مجاهدًا وعطاء وطاوسًا يصلون في نعالهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن خضیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضر ت مجاہد کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
٨١٠١ - حدثنا وكيع قال: ثنا عقبة بن أبي صالح قال: كنت عند إبراهيم -وهو خالع نعليه- فلما أقام المؤذن لبسهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن ابی صالح کہتے ہیں کہ میں ابراہیم کے پاس تھا، انہوں نے جوتے اتارے اور جب مؤذن نے اذان دی تو پہن لئے۔
٨١٠٢ - [حدثنا وكيع قال: ثنا إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع بن (جارية) (١) عن ⦗٢٠٤⦘ يعقوب بن مجمع قال: أول من صلى في نعليه عويم بن ساعدة] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعقوب بن مجمع فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جوتوں میں عویم بن ساعدہ نے نماز پڑھی۔
٨١٠٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز أنه كان يصلي في (نعليه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز اپنے جوتے پہن کر نماز پڑھا کرتے تھے۔
٨١٠٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر أنه كان يخلع نعليه فلما قام إلى الصلاة لبسهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر جوتے اتارتے اور جب نماز پڑھنے لگتے تو پہن لیتے۔
٨١٠٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن أبي نعامة عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري أن رسول اللَّه ﷺ صلى فخلع نعليه فخلع الناس نعالهم فلما انصرف قال: "لم خلعتم نعالكم؟ " قالوا: يا رسول اللَّه رأيناك خلعت فخلعنا فقال: "إن (جبريل) (١) أتاني فأخبرني أن فيهما خبثا فإذا جاء أحدكم إلى المسجد فليقلب نعليه ولينظر (فيهما) (٢) (فإن رأى) (٣) فيهما خبثا فليمسحه بالأرض (وليصل) (٤) فيهما" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں جوتے اتارے تو لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار لئے۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو لوگوں سے پوچھا کہ تم نے جوتے کیوں اتارے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے۔ آپ نے فرمایا کہ جبریل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہے۔ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے تو اپنے جوتوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ لے، اگر ان میں گندگی لگی تو اسے زمین سے مل کر صاف کرلے اور انہی میں نماز پڑھ لے۔
٨١٠٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا يزيد بن إبراهيم (التستري) (١) عن (الحسن) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تعاهدوا نعالكم فإن (رأى) (٣) أحدكم فيهما أذى فليمطه وإلا فليصل فيهما" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے جوتوں کو دیکھو اگر ان میں گندگی لگی ہو تو اسے صاف کرلو اور اگر نہ ہو تو انہی میں نماز پڑھ لو۔
٨١٠٧ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا زهير عن أبي إسحاق عن علقمة قال: ولم يسمعه منه عن عبد اللَّه أن النبي ﷺ صلى في نعليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جوتوں میں نماز ادا فرمائی۔