٦٦٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عبد الملك عن عطاء أنه لم يكن يرى بالسدل بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء نماز میں سدل کو ممنوع قرار نہ دیتے تھے۔
٦٦٤٩ - حدثنا ابن علية عن (ابن) (١) جريج قال: أكثر ما رأيت عطاء يسدل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء کو اکثر نماز میں سدل کرتے دیکھا ہے۔
٦٦٥٠ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي (عروبة) (١) عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كان لا يرى (به) (٢) بأسا إذا كان عليه قميص.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کے نزدیک اگر آدمی نے قمیص پہنی ہو تو سدل میں کوئی حرج نہیں۔
٦٦٥١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عطاء بن السائب عن محارب قال: رأيت ابن عمر يسدل في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محارب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز میں سدل کرتے دیکھا ہے۔
٦٦٥٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو شهاب موسى بن ثابت قال: رأيت سعيد ابن جبير يسدل في التطوع وعليه (مستقة) (١) (مكففة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو کھلی آستینوں والی قمیص پہنے کپڑا لٹکا کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
٦٦٥٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود أنه كان (يسدل) (١) في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن اسود نماز میں سدل کیا کرتے تھے۔
٦٦٥٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن (حميد) (١) قال: رأيت الحسن ما لا (أحصي) (٢) في الصلاة يسدل وأنا أرى ظهره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ میں نے حسن کو بیشمار مرتبہ کپڑا لٹکا کر نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور میں ان کی کمر دیکھا کرتا تھا۔
٦٦٥٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال: لا بأس بالسدل في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نماز میں سدل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٦٦٥٦ - حدثنا معاذ قال: حدثنا (١) ابن عون قال: رأيت محمدًا يصلي وقد سدل ثوبه فلا أدري على الإزار كان أو على القميص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے محمد کو نماز میں سدل کرتے دیکھا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ازار پر سدل کیا یا قمیص پر۔
٦٦٥٧ - حدثنا عبدة عن ابن (أبي) (١) عروبة قال: رأيت ابن سيرين يسدل في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی عروبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو نماز میں سدل کرتے دیکھا ہے۔
٦٦٥٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي قال: رأيت مكحولًا يسدل طيلسانه عليه في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول کو نماز میں اپنی چادر سے سدل کرتے دیکھا ہے۔
٦٦٥٩ - حدثنا سهل بن يوسف عن شعبة عن الحكم أنه كان لا يرى (به) (١) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سدل میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٦٦٦٠ - حدثنا وكيع عن مهدي بن ميمون قال: رأيت الحسن (يسدل) (١) على القباء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہدی بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو قمیص کے اوپر پہنے کپڑے پر سدل کرتے دیکھا ہے۔