کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ہر سننے والے اور تلاوت کرنے والے کے پاس سننے کے لئے بیٹھنے والے پر بھی سجدہ لازم ہے
٤٢٦٧ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) يحيى بن سعيد القطان عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال: إنما السجدة على من جلس لها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تلاوت کرنے والے کے پاس سننے کے لئے بیٹھنے والے پر بھی سجدہ لازم ہے۔
٤٢٦٨ - حدثنا هشيم قال (أنا) (١) خالد عن ابن سيرين قال: قال عمر: إنما (السجدة) (٢) في المسجد وعند الذكر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ سجدہ تلاوت مسجد میں اور ذکر کے وقت لازم ہے۔
٤٢٦٩ - حدثنا وكيع عن أبي العوام عن عطاء عن ابن عباس قال: إنما السجدة على من جلس لها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تلاوت کرنے والے کے پاس سننے کے لئے بیٹھے والے پر بھی سجدہ لازم ہے۔
٤٢٧٠ - حدثنا هشيم قال (أنا) (١) يونس عن الحسن قال: إنما السجود على من جلس له (أو) (٢) أنصت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ سجدہ ہر اس شخص پر لازم ہے جو تلاوت کرنے والے کے پاس سننے کے لئے بیٹھے اور اس کے لئے خاموش ہو۔
٤٢٧١ - حدثنا وكيع عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن عثمان قال: إنما السجدة على من جلس لها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ تلاوت کرنے والے کے پاس سننے کے لئے بیٹھنے والے پر بھی سجدہ لازم ہے۔
٤٢٧٢ - حدثنا هشيم قال (أنا) (١) يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أن قاصا كان يجلس قريبا من مجلسه فيقرأ السجدة فلا يسجد سعيد وقد سمعها قال فقيل له: (ما يمنعك) (٢) من السجود؟ قال: لست إليه جلست.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سعید بن مسیب کے بیٹھنے کی جگہ کے پاس بیٹھا کرتا تھا ۔ وہ اگر آیت سجدہ کی تلاوت کرتا تو حضرت سعید اس آیت کو سننے کے باوجود سجدہ نہیں کرتے تھے۔ کسی نے اس بارے میں ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مں ل اس کی تلاوت سننے کے لئے تو یہاں نہیں بیٹھا ہوا۔
٤٢٧٣ - حدثنا حفص عن حجاج عن حماد عن إبراهيم ونافع وسعيد بن جبير قالوا: من سمع السجدة فعليه أن يسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد، ابراہیم، حضرت نافع اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جس نے آیت سجدہ سنی اس پر سجدہ لازم ہے۔
٤٢٧٤ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: دخل سلمان الفارسي المسجد وفيه قوم يقرؤون فقرؤوا السجدة فسجدوا، فقال له صاحبه: يا أبا عبد اللَّه (لو) (١) (أتينا) (٢) هؤلاء القوم (فقال) (٣): ما لهذا غدونا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلمان مسجد میں داخل ہوئے تو لوگ قرآن پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے آیت سجدہ کی تلاوت کی اور سجدہ کیا۔ ایک شخص نے حضرت سلمان سے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ! ہم بھی ان لوگوں کی طرح سجدہ نہ کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم یہاں اس لئے تو نہیں آئے۔
٤٢٧٥ - حدثنا عبد الأعلى (عن) (١) الجريري عن أبي (العلاء) (٢) عن مطرف قال سألته عن الرجل (يتمارى) (٣) في السجدة (أسمعها أم لم) (٤) يسمعها قال: وسمعها فماذا؟ ثم قال مطرف: سألت عمران بن (حصين) (٥) عن رجل لا يدري أسمع السجدة أم لا؟ قال: وسمعها فماذا؟ (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلاء فرماتے ہیں کہ حضرت مطرف سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جسے آیت سجدہ کے بارے میں شک ہوگیا کہ اس نے سنی ہے یا نہیں سنی، تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ اسے سنتا تو کیا کرتا ؟ پھر حضرت مطرف نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمران بن حصنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا تھا جسے یہ شک ہوجائے کہ اس نے آیت سجدہ سنی ہے یا نہیں تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر وہ اسے سنتا تو کیا کرتا۔
٤٢٧٦ - حدثنا وكيع ومحمد بن بشر عن مسعر عن عطية عن ابن عمر قال: إنما السجدة على من سمعها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سجدہ اس پر لازم ہے جو آیت سجدہ کو سنے۔