حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ حُصَيْنَ بْنَ مِحْصَنٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّتَهُ " دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: ذَاتُ زَوْجٍ أَنْتَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا آلُوَهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ. فَقَالَ: انْظُرِي كَيْفَ أَنْتِ لَهُ، فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ "
ترجمہ
سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ کی پھوپھی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارا شوہر ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی طاقت بھر اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی، سوائے اس کے جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری جہنم ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ عَمَّتِهِ: أَنَّهَا " أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَقَضَى لَهَا حَاجَتَهَا، ثُمَّ قَالَ: أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ قَالَتْ: مَا آلُوَهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. قَالَ: فَانْظُرِي كَيْفَ أَنْتِ لَهُ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ "
ترجمہ
سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ کی پھوپھی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک حاجت لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے ان کی حاجت پوری کر دی، پھر فرمایا: ”کیا تمہارا شوہر ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: میں اپنی طاقت بھر اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی، سوائے اس کے جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری جہنم ہے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ عَمَّتِهِ: أَنَّهَا " أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَا لَكِ بَعْلٌ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ قَالَتْ: مَا آلُوَ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. فَقَالَ: اعْلَمِي أَنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ "
ترجمہ
سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ کی پھوپھی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارا شوہر نہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: میں اپنی طاقت بھر کوئی کسر نہیں چھوڑتی، سوائے اس کے جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جان لو کہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری جہنم ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ الْبَرَّادِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: «لَا نَعْصِيَهُ فِي الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ لَا نَخْمِشَ وَجْهًا، وَلَا نَنْشُرَ شِعْرًا وَلَا نَشُقَّ جَيْبًا، وَلَا نَدْعُوَ وَيْلًا»
ترجمہ
بیعت کرنے والی خواتین میں سے ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جو باتیں رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عہد لیں ان میں یہ بھی تھا کہ ہم نیک کاموں میں آپ ﷺ کی نافرمانی نہ کریں، اور میت کے غم میں چہرہ نہ نوچیں، بال نہ بکھیریں، گریبان نہ پھاڑیں، اور واویلا نہ کریں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ " لَنَا طُرُقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً، فَقَالَ: أَلَيْسَ بَعْدَهَا طُرُقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: فَهَذِهِ بِهَذِهِ "
ترجمہ
بنو عبدالاشہل کی ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مسجد تک جانے والے ہمارے راستے گندے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ان کے بعد اس سے زیادہ صاف راستے نہیں ہیں؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہ اس کے بدلے ہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا طَرِيقًا خَبِيثَةً فِي الْمَطَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ دُونَهَا طَرِيقٌ طَيِّبَةٌ؟» ، قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: «فَذَلِكَ بِذَلِكَ»
ترجمہ
بنو عبدالاشہل کی ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بارش کے موسم میں ہمارا راستہ گندا ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس سے پہلے کوئی صاف راستہ نہیں ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ اس کے بدلے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو مُوسَى عِيسَى بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ غَزْوَانَ صَاحِبِ النَّرْسِيِّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَوْ خَالَتِهَا بَنَاتِ أَبِي أُمَامَةَ قَالَتْ: «أَوْصَى إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَنَاتِهِ يَعْنِي أَبَا أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ، فَقُلْنَ حَلَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُعَاثًا مِنْ ذَهَبٍ»
ترجمہ
زینب بنت نبیط بن جابر اپنی والدہ یا خالہ سے، جو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی بیٹیوں میں سے تھیں، روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ابوامامہ (اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ) کی بیٹیوں کے بارے میں وصیت کی۔ وہ بیٹیاں کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سونے کی بالیاں پہنائیں۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، حَدَّثَتْنِي خَالَتِي، قَالَتْ: لَقَدْ أَقْرَأَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةَ الرَّجْمِ: «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا، فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ بِمَا قَضَيَا مِنَ اللَّذَّةِ»
ترجمہ
ابوامامہ بن سہل بن حنیف کی خالہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رجم کی یہ آیت پڑھائی تھی: ”بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو انہیں ضرور سنگسار کر دو، اس لذت کے بدلے جو انہوں نے حاصل کی۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ضَمْضَمَ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَدِيثِ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ الْأَبَحِّ السَّلِيحِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَتْ: «كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَصْبُغُ ثِيَابًا بِمَغْرَةَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ، فَأَخَذَتْ مَاءً، فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَاطَّلَعَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَدَخَلَ»
ترجمہ
بنو اسد کی ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ایک دن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ، کے پاس تھی، اور ہم گیرو (سرخ مٹی) سے کپڑے رنگ رہی تھیں۔ ہم اسی حال میں تھیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، جب آپ ﷺ نے گیرو دیکھا تو واپس چلے گئے۔ جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو سمجھ گئیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کام کو ناپسند کیا ہے، چنانچہ انہوں نے پانی لے کر اپنے کپڑے دھوئے اور ہر سرخی چھپا دی۔ پھر رسول اللہ ﷺ واپس آئے اور دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا، چنانچہ آپ ﷺ اندر تشریف لے آئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْبَاهِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمِّي، قَالَتْ: «شَهِدْتُ آمِنَةَ لَمَّا وَلَدَتْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ نَظَرْتُ إِلَى النُّجُومِ تَدَلَّى حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَتَقَعَنَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا وَلَدَتْهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهُ الْبَيْتُ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ وَالدَّارُ، فَمَا شَيْءٌ أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِلَّا نُورٌ»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں آمنہ کے پاس اس وقت موجود تھی جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جنم دیا۔ جب انہیں دردِ زہ شروع ہوا تو میں نے ستاروں کو اتنا جھکتے دیکھا کہ میں کہنے لگی، یہ مجھ پر گر پڑیں گے۔ پھر جب انہوں نے آپ ﷺ کو جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا جس سے وہ گھر اور صحن روشن ہو گیا جس میں ہم تھے، اور مجھے نور کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ امْرَأَةٍ، يَتِيمَةٍ كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَقِيفَ أَنَّهَا حَدَّثَتْ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ، فَإِنَّهُ مَنْ مَاتَ بِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
ثقیف کی ایک یتیم صحابیہ رضی اللہ عنہا، جو رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتی تھیں، سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو مدینہ میں مرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ وہیں مرے، کیونکہ جو شخص وہاں مرے گا، میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي ظِئْرٌ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، قَالَ: " لَمَّا وُلِدَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا سَمُّوهُ؟ قُلْنَا: مُحَمَّدٌ. قَالَ: هَذَا اسْمِي وَكُنْيَتُهُ، أَبوِ الْقَاسِمُ "
ترجمہ
سیدنا محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی دایہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب محمد بن طلحہ پیدا ہوئے تو میں انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لے کر آئی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: محمد۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرا نام ہے، اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْفَائِشِيِّ، عَنْ بِنْتِ خَبَّابٍ، قَالَتْ: «خَرَجَ أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَاهَدُنَا، فَيَحْلُبُ عَنْزًا لَنَا، وَكَانَ يَحْلُبُهَا فِي جَفْنَةٍ، فَتَمْتَلِئُ، فَلَمَّا قَدِمَ خَبَّابٌ كَانَ يَحْلُبُهَا، فَعَادَ حِلَابُهَا الْأَوَّلُ»
ترجمہ
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی بیٹی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے والد نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک غزوے میں گئے، تو رسول اللہ ﷺ ہماری خبرگیری کیا کرتے، اور ہماری ایک بکری کا دودھ دوہا کرتے، آپ ﷺ اسے ایک بڑے پیالے میں دوہتے تو وہ بھر جاتا۔ جب خباب رضی اللہ عنہ واپس آئے تو وہ خود اسے دوہنے لگے تو دودھ اپنی پہلی کم مقدار پر واپس آ گیا۔