المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
نساء غير مسميات ممن لهن صحبة باب: کچھ نامعلوم خواتین صحابیات
حدیث نمبر: 21919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْبَاهِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمِّي، قَالَتْ: «شَهِدْتُ آمِنَةَ لَمَّا وَلَدَتْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ نَظَرْتُ إِلَى النُّجُومِ تَدَلَّى حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَتَقَعَنَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا وَلَدَتْهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهُ الْبَيْتُ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ وَالدَّارُ، فَمَا شَيْءٌ أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِلَّا نُورٌ»ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں آمنہ کے پاس اس وقت موجود تھی جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جنم دیا۔ جب انہیں دردِ زہ شروع ہوا تو میں نے ستاروں کو اتنا جھکتے دیکھا کہ میں کہنے لگی، یہ مجھ پر گر پڑیں گے۔ پھر جب انہوں نے آپ ﷺ کو جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا جس سے وہ گھر اور صحن روشن ہو گیا جس میں ہم تھے، اور مجھے نور کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔“