حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ أَحَدٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَالْحُدَيْبِيَةَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا} [مريم: ٧١] ، قَالَ: " أَفَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ: {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا} [مريم: ٧٢] ؟ "
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ جن لوگوں نے بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی، ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ”تم میں سے ہر ایک کو اس پر ضرور گزرنا ہوگا، یہ تیرے رب کے ذمے طے شدہ فیصلہ ہے۔“ [سورۃ مریم: 71] آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”پھر ہم متقی لوگوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔“ [سورۃ مریم: 72]؟“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِحَفْصَةَ: أَتَغْضَبُ إِحْدَاكُنَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ؟، قَالَتْ: «نَعَمْ»
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی نبی کریم ﷺ سے ایک دن سے شام تک ناراض رہتی ہے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ جب فجر روشن ہو جاتی تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْإِحْرَامِ: الْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدَأَةُ "
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مار دینے میں کوئی حرج نہیں: کوا، چوہا، بچھو، کاٹنے والا کتا، اور چیل۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ» .
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت پختہ نہ کی، اس کا روزہ نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدَعْ أَحَدُكُمْ طَلَبَ الْوَلَدِ فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ وَلَدٌ انْقَطَعَ اسْمُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اولاد کی خواہش نہ چھوڑے، کیونکہ جب آدمی مرتا ہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہوتی تو اس کا نام مٹ جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ: «اجْتَنِبْ هَذَا الرَّجُلَ، فَإِنَّا كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا» ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس شخص سے بچو، کیونکہ ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ دجال ایک ایسے غصے سے نکلے گا جو اسے آئے گا۔“
معمر نے زہری سے اسی طرح، سابقہ حدیث کی طرح، روایت کیا ہے۔
معمر نے زہری سے اسی طرح، سابقہ حدیث کی طرح، روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أُسَامَةُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو دو ہلکے سجدے (رکعتیں) پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ - زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ لَمْ تُحِلَّ» الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی زوجہ، نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا؟“ … (آگے حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے گزر چکی ہے)۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يَخْرُجُ ابْنُ صَائِدٍ لِغَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابن صائد کا نکلنا محض ایک غصے کی وجہ سے ہے جو اسے آتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تُحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَهُ بِمِنًى»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ حلال ہو گئے مگر آپ اپنے عمرے سے حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے جب تک اسے منیٰ میں ذبح نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ جب فجر روشن ہو جاتی تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قُبَيْلَ الْفَجْرِ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر سے تھوڑی دیر پہلے کی دو رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «إِذَا رَأَى الْفَجْرَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب فجر دیکھتے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «إِذَا نُودِيَ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ يُخَفِّفُهُمَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب فجر کی نماز کے لیے اذان دی جاتی تو فرض نماز سے پہلے دو سجدے (رکعتیں) ادا کرتے اور انہیں ہلکا رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا تو نماز کھڑی ہونے سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فجر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فجر طلوع ہوتے ہی فجر کی دو رکعتیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُحِلَّ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے اس حج میں، جو آپ ﷺ نے کیا، حلال ہو جاؤں۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّدَ رَأْسَهُ حِينَ حَجَّ، وَحَلَقَ حِينَ حَلَّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حج کے دوران اپنے سر پر تلبید کی، اور جب حلال ہوئے تو سر منڈوایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حلال ہو جانے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو صرف دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ … (راوی نے آگے حدیث بیان کی)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجذوعي، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ سِنِينَ أَوْ سَنَةً وَنِصْفًا مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَ مَرَّةً عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِضَبٍّ فَجَعَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَأْكُلُونَهُ وَفِيهِمْ سَعْدٌ، فَنَادَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَبٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوهُ لَا بَأْسَ بِهِ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِ قَوْمِي»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک سانڈا (گوہ) پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ کے کچھ صحابہ اسے کھانے لگے، ان میں سعد رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سے ایک نے آپ ﷺ کو پکار کر بتایا کہ یہ سانڈا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے کھاؤ، اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ میری قوم کی خوراک نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ - زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ» .
ترجمہ
صفیہ بنت ابی عبید بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی زوجہ، کو یہ بیان کرتے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے۔“
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ حَفْصَةَ أَوْ كِلْتَاهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
صفیہ بیان کرتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یا حفصہ رضی اللہ عنہا، یا دونوں سے بھی اسی طرح کی حدیث نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لِلنَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تُحِلَّ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَيْسَ لِي مُحِلٌّ إِلَّا مُحِلُّ هَدْيِي»
ترجمہ
صفیہ بنت ابی عبید، نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سے ایک سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: نبی کریم ﷺ! لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ حلال ہو گئے اور آپ حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے میرے حلال ہونے کا وقت وہی ہے جب میری قربانی حلال ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مَنْ مَشَى إِلَى عَرَّافٍ لَمْ يَقْبَلِ اللهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا» ، مَوْقُوفٌ
ترجمہ
صفیہ بنت ابی عبید، نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سے ایک سے روایت کرتی ہیں: ”جو شخص کسی نجومی (غیب دان) کے پاس جائے، اللہ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں فرماتا۔“
یہ روایت موقوف ہے (یعنی صحابیہ کا اپنا قول ہے، براہ راست نبی کریم ﷺ سے مروی نہیں)۔
یہ روایت موقوف ہے (یعنی صحابیہ کا اپنا قول ہے، براہ راست نبی کریم ﷺ سے مروی نہیں)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَصَفِيَّةَ، قَالَتَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ»
ترجمہ
صفیہ بنت ابی عبید، ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، وہ دونوں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ گڑگڑاتا ہوا ڈالتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے، پھر فرماتے: ”اے اللہ! مجھے اپنے عذاب سے بچا، جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي مَخْلَدٍ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ عُطَارِدَ بْنَ حَاجِبٍ، جَاءَ بِثَوْبٍ دِيبَاجٍ كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَا أَشْتَرِيهِ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، فَقَالَ: «إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عطارد بن حاجب ایک ریشمی کپڑا لے کر آئے جو کسریٰ نے انہیں پہنایا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں یہ آپ کے لیے خرید لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے تو وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَبَاحٍ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِيَامُ عَاشُورَاءَ، وَالْعَشْرُ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ "
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: چار چیزیں ایسی تھیں جنہیں نبی کریم ﷺ کبھی نہیں چھوڑتے تھے: عاشوراء کا روزہ، ذوالحجہ کے دس دنوں کا روزہ، اور ہر مہینے تین دن کا روزہ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَبَاحٍ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُمْنَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ مِنَ الشَّهْرِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ، وَالْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھو، یا مہینے میں پیر اور جمعرات کا، اور اس کے بعد آنے والی جمعرات کا روزہ رکھو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِثْنَيْنَ وَخَمِيسَ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے: پیر اور جمعرات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهَا الشِّفَاءُ كَانَتْ تَرْقِي فِي النَّمْلَةِ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ»
ترجمہ
محمد بن منکدر، ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کرتے ہیں کہ قریش کی ایک عورت، جسے شفاء کہا جاتا تھا، پھوڑے پھنسی (نملہ) کا دم کیا کرتی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”یہ دم حفصہ کو بھی سکھا دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَهَيْأَتِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَهَيْأَتِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلِيٌّ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَهَيْأَتِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَتَجَلَّلَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ تَحَدَّثُوا ثُمَّ خَرَجُوا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنْتُ لَهُ وَأَنْتَ عَلَى هَيْأَتِكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنْتَ لَهُ وَأَنْتَ عَلَى هَيْأَتِكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلِيٌّ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِكَ فَأَذِنْتُ لَهُ وَأَنْتَ عَلَى هَيْأَتِكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَتَجَلَّلْتَ بِثَوْبِكَ، فَقَالَ: «أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّا تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟» . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبِي بِنَحْوِهِ
ترجمہ
…پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اسی حالت میں اجازت دے دی۔ پھر علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے کچھ صحابہ کے ساتھ اجازت مانگی تو آپ نے انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے اپنے کپڑے سے خود کو ڈھانپ لیا، اور فرمایا: ”کیا میں اس سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟“
ابن جریج بیان کرتے ہیں: مجھے میرے والد نے بھی اسی طرح کی روایت بتائی۔
ابن جریج بیان کرتے ہیں: مجھے میرے والد نے بھی اسی طرح کی روایت بتائی۔