حدیث نمبر: 19678
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تُحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَهُ بِمِنًى»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ حلال ہو گئے مگر آپ اپنے عمرے سے حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے جب تک اسے منیٰ میں ذبح نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19678
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 211، حدیث 374