کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ذکر، ان کے احوال
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، فِي «تَسْمِيَةِ مَنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ، مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ نَصْرَانِيًّا وَمَعَهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، وَاسْمُهَا رَمْلَةُ، فَخَلَّفَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْكَحَهُ إِيَّاهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ أُمُّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ، أُخْتُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَمَّةُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ»
ترجمہ
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: بنو اسد بن خزیمہ میں سے جو لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر گئے، ان میں عبیداللہ بن جحش بن رئاب بھی شامل تھے، جو حبشہ کی سرزمین میں عیسائی ہو کر فوت ہوئے، جبکہ ان کے ساتھ ان کی بیوی ام حبیبہ بنت ابی سفیان — جن کا نام رملہ تھا — بھی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے نکاح میں لے لیا، اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی سرزمین ہی میں ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کروایا۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی والدہ صفیہ بنت ابی العاص تھیں، جو عفان بن ابی العاص کی بہن اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا يَعْمَرُ بْنُ بَشِيرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، «أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، وَكَانَ رَحَلَ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَمَاتَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَإِنَّهَا لَفِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ، زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَمِائَةِ دِرْهَمٍ»
ترجمہ
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور وہ نجاشی کے پاس گئے تو وہیں فوت ہو گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، جبکہ وہ اس وقت حبشہ کی سرزمین میں تھیں۔ نجاشی نے ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کروایا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر انہیں کچھ نہیں بھیجا۔ نبی کریم ﷺ کی ازواج کا مہر چار سو درہم ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ، وَاسْمُ أُمِّ حَبِيبَةَ رَمْلَةُ، وَأَنْكَحَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ أُمُّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ، وَصَفِيَّةُ عَمَّةُ عُثْمَانَ، أُخْتُ عَفَّانَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، وَقَدِمَ بِأُمِّ حَبِيبَةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ»
ترجمہ
امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نام رملہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا نکاح ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کروایا، کیونکہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی والدہ صفیہ بنت ابی العاص تھیں، اور صفیہ، عثمان رضی اللہ عنہ کی حقیقی پھوپھی، یعنی عفان کی سگی بہن تھیں۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ کے پاس شرحبیل بن حسنہ لے کر آئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، ثنا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِنْدِي أَحْسَنُ نِسَاءِ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُكَهَا؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ تَتَّخِذُهُ كَاتِبًا؟، قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوسفیان نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میرے پاس عرب کی سب سے حسین و جمیل عورت، ام حبیبہ بنت ابی سفیان ہے، کیا میں اس کا نکاح آپ سے کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے مزید عرض کیا: اور معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنا لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“