حدیث نمبر: 19694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لِلنَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تُحِلَّ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَيْسَ لِي مُحِلٌّ إِلَّا مُحِلُّ هَدْيِي»
ترجمہ

صفیہ بنت ابی عبید، نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سے ایک سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: نبی کریم ﷺ! لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ حلال ہو گئے اور آپ حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے میرے حلال ہونے کا وقت وہی ہے جب میری قربانی حلال ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19694
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 214، حدیث 390