کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا وَلَمْ تُحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ حلال ہو گئے ہیں مگر آپ اپنے عمرے سے حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کے جانور کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے جب تک قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُحِلَّ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حلال ہو جانے کا حکم دیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے جب تک اپنی قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُحِلَّ؟، فَقَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَسْتُ أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حکم دیا کہ وہ حلال ہو جائیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنایا ہے، اس لیے جب تک اپنی قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَنْ يُحْلِلْنَ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تُحِلَّ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أُحِلَّ مِنْ حَجَّتِي»
ترجمہ
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حلال ہو جانے کا حکم دیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے جب تک اپنے حج سے حلال نہ ہو جاؤں، حلال نہیں ہوں گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ بِعُمْرَةٍ، قُلْنَا: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تُحِلَّ مَعَنَا؟، قَالَ: «إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ، وَلَبَّدْتُ، فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو عمرے کے ذریعے حلال ہونے کا حکم دیا تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو ہمارے ساتھ حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے قربانی کا جانور بھیج رکھا ہے اور اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے، اس لیے جب تک قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تُحِلَّ؟، قَالَ: «إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَسْتُ أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ الْهَدْيَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حلال ہو جانے کا حکم دیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کو ہار پہنایا ہے اور اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے، اس لیے جب تک قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، «أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ» - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ — یعنی نبی کریم ﷺ — فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «يُصَلِّي بَعْدَمَا يَطْلُعُ الْفَجْرَ وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فجر طلوع ہونے اور مؤذن کی نماز کے لیے اذان کے بعد دو ہلکی رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مؤذن اذان سے خاموش ہو جاتا تو نماز کھڑی ہونے سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ كَانَ إِذَا نُودِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ إِلَى الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ جب فجر کی نماز کے لیے اذان دی جاتی تو نماز کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِالْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَيُحَرِّمُ الطَّعَامَ، وَكَانَ لَا يُؤَذَّنُ حَتَّى يُصْبِحَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مؤذن فجر کی اذان دیتا تو کھڑے ہو کر فجر کی دو رکعتیں پڑھتے، پھر مسجد کی طرف نکلتے، اور روزے میں کھانا حرام ہو جاتا، اور اذان اس وقت تک نہیں دی جاتی جب تک صبح نہ ہو جاتی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْغَدَاةِ رَكْعَتَيْنِ يُخَفِّفُهُمَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم ﷺ کی زوجہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ ﷺ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے اور انہیں ہلکا رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ فجر طلوع ہونے پر دو ہلکے سجدے (رکعتیں) ادا فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ طلوع فجر کے بعد دو ہلکی رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو دو ہلکی رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: ثنا أَبُو زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعُمَرِ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الطَّوِيلِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ حِينَ يَتَبَيَّنُ الْفَجْرُ قَبْلَ الصَّلَاةِ "
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر واضح ہو جاتی تو نماز سے پہلے دو ہلکے سجدے (رکعتیں) پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي بَيْتِي وَكَانَ يُخَفِّفُهُمَا»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی دو رکعتیں میرے گھر میں پڑھیں اور انہیں ہلکا رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: «يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ فجر طلوع ہونے پر فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْإِحْرَامِ: الْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدَأَةُ "
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مار دینے میں کوئی حرج نہیں: کوا، چوہا، کاٹنے والا کتا، اور چیل۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّوَاحُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَالْغُسْلُ كَاغْتِسَالِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ»
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا أَبُو سُفْيَانَ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ»
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا أَبُو سُفْيَانَ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن جانا ہر بالغ پر واجب ہے، اور اس کا غسل جنابت کے غسل کی طرح ہے۔“
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ کے بال کندھوں تک تھے اور مہندی اور کتم (بالوں کو رنگنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک پودا) سے رنگے ہوئے تھے۔
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ کے بال کندھوں تک تھے اور مہندی اور کتم (بالوں کو رنگنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک پودا) سے رنگے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا خُرُوجُ ابْنِ صَيَّادٍ لِغَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن صیاد کا نکلنا محض ایک غصے کی وجہ سے ہے جو اسے آتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ»
ترجمہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت پختہ نہ کی، اس کا روزہ نہیں ہے۔“