المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى عبد الله بن عمر، عن حفصة باب: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی
حدیث نمبر: 19619
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ بِعُمْرَةٍ، قُلْنَا: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تُحِلَّ مَعَنَا؟، قَالَ: «إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ، وَلَبَّدْتُ، فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ»ترجمہ
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو عمرے کے ذریعے حلال ہونے کا حکم دیا تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو ہمارے ساتھ حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے قربانی کا جانور بھیج رکھا ہے اور اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے، اس لیے جب تک قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“