حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: «فَوَلَدَ عُمَرُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَأُخْتَهُ لِأَبِيهِ، وَأُمَّهُ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَكْبَرَ، وَأُمُّهُمْ زَيْنَبُ بِنْتُ مَظْعُونِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ، كَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، وَكَانَتْ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، وَشَهِدَ بَدْرًا أَبُوهَا، وَعَمُّهَا زَيْدٌ، وَشَهِدَ بَدْرًا أَخْوَالُهَا عُثْمَانُ، وَقُدَامَةُ، وَعَبْدُ اللهِ ابْنُ خَالِهَا، وَالسَّائِبُ بْنُ عُثْمَانَ»
ترجمہ
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں عبداللہ بن عمر اور ان کی سگی بہن حفصہ بنت عمر — جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں — اور عبدالرحمن اکبر پیدا ہوئے، اور ان کی والدہ زینب بنت مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح تھیں، جو مہاجرات میں سے تھیں اور نبی کریم ﷺ سے پہلے خُنیس بن حذافہ سہمی کے نکاح میں تھیں۔ ان کے والد اور ان کے چچا زید نے بدر میں شرکت کی، اور ان کے ماموں عثمان اور قدامہ، ان کے ماموں زاد عبداللہ اور سائب بن عثمان نے بھی بدر میں شرکت کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّالِمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي أَوَيْسٍ الْأَعْشَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: ثنا جَدِّي، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ عَقِيلٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُجَاشِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: " تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَعَرَضْتُهَا فَسَكَتَ عَنِّي، فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ مَا دَخَلَنِي، فَلَمَّا تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ذَكَرَهَا، فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ سَكَتُّ «.» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَابْنِ أَبِي عَتِيقٍ "
ترجمہ
…پھر جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا تو میں نے اس سے پوچھا: تمہیں اس رویے پر کس بات نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر فرما رکھا تھا، اسی وجہ سے میں خاموش رہا۔
یہ الفاظ موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق کی روایت کے ہیں۔
یہ الفاظ موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الصُّورِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّ جَارِيَةً لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَحَرَتْهَا فَاعْتَرَفَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا، فَأَمَرَتْ حَفْصَةُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدٍ، فَقَتَلَهَا، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا عُثْمَانُ، فَأَتَاهُ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ: إِنَّهَا سَحَرَتْهَا وَاعْتَرَفَتْ بِهِ، وَكَانَ عُثْمَانُ أَنْكَرَ عَلَيْهَا مَا فَعَلَتْ دُونَ السُّلْطَانِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے ان پر جادو کر دیا، اور اس نے خود اس کا اعتراف بھی کر لیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عبدالرحمن بن زید کو حکم دیا تو اس نے اسے قتل کر دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ پھر عبداللہ (بن عمر) ان کے پاس گئے اور کہا: اس نے تو جادو کیا تھا اور خود اعتراف بھی کیا تھا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دراصل اس بات پر ناراضگی ظاہر کی تھی کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکمران کی اجازت کے بغیر یہ کام کیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: «طَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَفْصَةَ، ثُمَّ رَاجَعَهَا»
ترجمہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، پھر رجوع فرما لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟ لَعَلَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَكِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَكِ وَرَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي، وَاللهِ لَئِنْ كَانَ طَلَّقَكِ لَا أُكَلِّمُكِ كَلِمَةً أَبَدًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو وہ رو رہی تھیں۔ انہوں نے پوچھا: ”تمہیں کس بات نے رلا دیا؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ بے شک نبی کریم ﷺ نے تمہیں طلاق دی تھی اور میری وجہ سے رجوع فرمایا۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ نے تمہیں طلاق دی ہوتی تو میں تم سے کبھی بات نہ کرتا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: " أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطَلِّقَ حَفْصَةَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: لَا تُطَلِّقْهَا فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ، وَإِنَّهَا زَوْجَتُكَ فِي الْجَنَّةِ "
ترجمہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو جبریل علیہ السلام آئے اور فرمایا: ”انہیں طلاق نہ دیں، وہ بہت روزہ رکھنے والی اور بہت عبادت گزار ہیں، اور وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہوں گی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَوَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: «مَا يَعْبَأُ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ بَعْدَهَا» ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُرَاجِعَ حَفْصَةَ رَحْمَةً لِعُمَرَ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی۔ جب یہ بات عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے اپنے سر پر خاک ڈال لی اور کہا: ”اے ابن خطاب! اس کے بعد اللہ تمہاری کوئی پروا نہیں کرے گا۔“ پھر جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئے اور فرمایا: اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرتے ہوئے حفصہ رضی اللہ عنہا سے رجوع فرما لیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: ثنا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَتْ حَفْصَةُ عَامَ فُتِحَتْ إِفْرِيقِيَّةُ وَمَاتَتْ، وَمَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ»
ترجمہ
امام مالک بن انس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: حفصہ رضی اللہ عنہا اس سال فوت ہوئیں جس سال افریقیہ فتح ہوا، اور اس وقت مروان مدینہ کا حاکم تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، قَالَ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ: «غَزَا مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ إِفْرِيقِيَّةَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَالْأُولَى سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ، وَالثَّانِيَةُ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، وَالثَّالِثَةُ سَنَةَ خَمْسِينَ»
ترجمہ
یزید بن ابی حبیب بیان کرتے ہیں: معاویہ بن حُدَیج نے افریقیہ پر تین مرتبہ لشکر کشی کی: پہلی مرتبہ چونتیس ہجری میں، دوسری مرتبہ چالیس ہجری میں، اور تیسری مرتبہ پچاس ہجری میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، ثنا جَدِّي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ مَرْوَانَ، «كَانَ يُرْسِلُ إِلَى حَفْصَةَ يَسْأَلُهَا عَنِ الْمُصْحَفِ الَّذِي نُسِخَ مِنْهُ الْقُرْآنُ، فَتَأْبَى حَفْصَةُ أَنْ تُعْطِيَهُ إِيَّاهُ، فَلَمَّا دَفَنَّا حَفْصَةَ أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، أَرْسِلْ إِلَيَّ بِذَلِكَ الْمُصْحَفِ فَأَرْسَلَهَا إِلَيْهِ»
ترجمہ
سالم بیان کرتے ہیں کہ مروان حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس مصحف کے بارے میں پیغام بھیجتا رہتا جس سے قرآن کی نقل تیار کی گئی تھی، مگر حفصہ رضی اللہ عنہا اسے دینے سے انکار کرتی رہیں۔ جب ہم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو دفن کر دیا تو مروان نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا: وہ مصحف مجھے بھیج دو۔ چنانچہ انہوں نے وہ مصحف اسے بھیج دیا۔