حدیث نمبر: 19615
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا وَلَمْ تُحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ»
ترجمہ

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ حلال ہو گئے ہیں مگر آپ اپنے عمرے سے حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کے جانور کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے جب تک قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19615
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 189، حدیث 311