المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى عبد الله بن عمر، عن حفصة باب: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی
حدیث نمبر: 19617
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُحِلَّ؟، فَقَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَسْتُ أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حکم دیا کہ وہ حلال ہو جائیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنایا ہے، اس لیے جب تک اپنی قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“