حدیث نمبر: 19616
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُحِلَّ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حلال ہو جانے کا حکم دیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے جب تک اپنی قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19616
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 190، حدیث 312