المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى عبد الله بن عمر، عن حفصة باب: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی
حدیث نمبر: 19620
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تُحِلَّ؟، قَالَ: «إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَسْتُ أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ الْهَدْيَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حلال ہو جانے کا حکم دیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کو ہار پہنایا ہے اور اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے، اس لیے جب تک قربانی نہ کر لوں، حلال نہیں ہوں گا۔“