المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى عبد الله بن عمر، عن حفصة باب: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی
حدیث نمبر: 19618
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَنْ يُحْلِلْنَ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تُحِلَّ؟، قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أُحِلَّ مِنْ حَجَّتِي»ترجمہ
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حلال ہو جانے کا حکم دیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو حلال ہونے سے کس چیز نے روکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر پر تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا رکھا ہے، اس لیے جب تک اپنے حج سے حلال نہ ہو جاؤں، حلال نہیں ہوں گا۔“