کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ النُّعْمَانِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ الْمَوْتَ إِنِّي أُرِيتُكِ زَوْجَتِي فِي الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”موت میرے لیے اس بات سے آسان ہو جاتی ہے کہ مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے کہ تم جنت میں میری بیوی ہو۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَزْوَاجُكَ فِي الْجَنَّةِ؟، قَالَ: «إِنَّكِ مِنْهُمْ» - أَوْ قَالَ: - «أَمَا إِنَّكِ مِنْهُمْ» ، فَخُيِّلَ إِلَيَّ أَنَّ ذَلِكَ لِأَنَّهُ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جنت میں آپ کی بیویاں کون ہوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی ان میں سے ہو“، یا فرمایا: ”سن لو، تم بھی ان میں سے ہو۔“ مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ اس لیے فرمایا کیونکہ آپ ﷺ نے میرے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مِهْرَانَ الْخَبَّازُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا عَمَّارُ فَذَكَرَ عَائِشَةَ، فَقَالَ: «إِنَّهَا زَوْجَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ
ابومریم عبداللہ بن زیاد اسدی بیان کرتے ہیں: عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا اور فرمایا: ”وہ دنیا اور آخرت میں رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، يَقُولُ: «لَقَدْ سَارَتْ أُمُّنَا مَسِيرَهَا، وَأَنَّهَا لَتَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَةُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللهَ ابْتَلَانَا لِيَعْلَمَ إِيَّاهَا نُطِيعُ أَوْ إِيَّاهُ»
ترجمہ
عبداللہ بن زیاد اسدی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ہماری ماں (عائشہ) نے جو سفر کیا سو کیا، اور وہ خود جانتی ہیں کہ وہ دنیا اور آخرت میں ہمارے نبی ﷺ کی بیوی ہیں، لیکن اللہ نے ہمیں آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ دیکھے کہ ہم ان کی اطاعت کرتے ہیں یا اللہ کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، ثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، أَنَّ رَجُلًا نَالَ مِنْ عَائِشَةَ عِنْدَ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: «اسْكُتْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا، أَتُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟»
ترجمہ
عمرو بن غالب بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازیبا بات کی، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”خاموش ہو جا، ذلیل و رسوا! کیا تو رسول اللہ ﷺ کی محبوبہ کو اذیت دیتا ہے؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَرِيبِ بْنِ حُمَيْد أَو حُمَيْدِ بْنِ عَرِيبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ عِنْدَ عَلِيٍّ فَتَنَاوَلَ عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: «مَنْ ذَا الَّذِي تَتَنَاوَلُ زَوْجَةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ؟، اسْكُتْ مَقْبُوحًا»
ترجمہ
عریب بن حمید یا حمید بن عریب بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازیبا بات کی، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”تو کون ہے جو ہمارے نبی ﷺ کی جنتی بیوی کے بارے میں نازیبا بات کرتا ہے؟ خاموش ہو جا، ذلیل و رسوا!“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَوَاللهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرَهَا»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے ام سلمہ! عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دو، اللہ کی قسم! تم میں سے کسی اور عورت کی چادر میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی سوائے اس کے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْجَارُودِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ - زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: أَرْسَلْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي، فَأَذِنَ لَهَا وَأَنَا سَاكِتَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرْسَلْنَنِي يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينِي؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: «أَحِبِّيهَا»
ترجمہ
...آپ ﷺ نے اسے اندر آنے کی اجازت دی جبکہ میں خاموش تھی، تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی دیگر بیویوں نے مجھے بھیجا ہے کہ میں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی (عائشہ) کے بارے میں انصاف کا سوال کروں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میری بیٹی! کیا تم مجھ سے محبت نہیں رکھتیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس سے بھی محبت رکھو۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ» ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے، مگر عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کامل ہوئیں۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ کو دیگر عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو باقی کھانوں پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَدْنَى، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا أَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
ترجمہ
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ کو دیگر عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو باقی کھانوں پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَائِنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
ترجمہ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ کو دیگر عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو باقی کھانوں پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ کو دیگر عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو باقی کھانوں پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”عائشہ کو دیگر عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو باقی کھانوں پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ، أَوْ فَضْلُ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ كَفَضْلِ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو باقی کھانے پر حاصل ہے“، یا فرمایا: ”ثرید کو کھانے پر وہی فضیلت حاصل ہے جو عائشہ کو عورتوں پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ السِّجْزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو کھانے پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟، قَالَ: «عَائِشَةُ» ، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ، قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ»
ترجمہ
عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ۔“ انہوں نے پوچھا: مردوں میں سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟، قَالَ: «عَائِشَةُ» ، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ، قَالَ: «أَبُوهَا» ، قُلْتُ: وَمَنْ؟، قَالَ: «عُمَرُ» ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ فَعَدَّدَ رِجَالًا.
ترجمہ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں غزوۂ ذات السلاسل کے لشکر پر امیر بنا کر بھیجا، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ۔“ میں نے کہا: مردوں میں سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے والد۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمر۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ ﷺ نے کئی مردوں کے نام گنوائے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي جَيْشٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی جیسی اوپر گزری۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟، قَالَ: «وَلِمَ؟» ، قُلْتُ: لِأُحِبَّ مَنْ تُحِبُّ، قَالَ: «عَائِشَةُ» .
ترجمہ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں پوچھتے ہو؟“ میں نے کہا: تاکہ میں بھی اسی سے محبت کروں جس سے آپ محبت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
ام محمد، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث بیان کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ فِي عَائِشَة: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَمَالَكُ لَهَا حُبًّا»
ترجمہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا: نبی کریم ﷺ ان کی محبت پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: «وَاللهِ يَا عَائِشَةُ مَا يَخْفَى عَلَيَّ حِينَ تَرْضَيْنَ، وَلَا حِينَ تَغْضَبِينَ» ، قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟، قَالَ: " أَمَّا حِينَ تَرْضَيْنَ فَإِنَّكِ تَقُولِينَ حِينَ تَحْلِفِينَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَأَمَّا حِينَ تَغْضَبِينَ فَإِنَّكِ تَقُولِينَ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ يَا عَائِشَةُ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى» ، قُلْتُ: بِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: " إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَحَلَفْتِ وقُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْإِبلي، ثنا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْإِبلي، ثنا حَارِثَةُ بْنُ هَرِمٍ الْعقيمي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَعْرِفُ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً» ، قُلْتُ: فَكَيْفَ ذَلِكَ؟، قَالَ: " إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، قُلْتُ: إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ يَا عَائِشَةُ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى» ، قُلْتُ: بِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: " إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَحَلَفْتِ وقُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْإِبلي، ثنا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْإِبلي، ثنا حَارِثَةُ بْنُ هَرِمٍ الْعقيمي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَعْرِفُ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً» ، قُلْتُ: فَكَيْفَ ذَلِكَ؟، قَالَ: " إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، قُلْتُ: إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اے عائشہ! جب تم راضی ہوتی ہو یا ناراض ہوتی ہو، مجھ سے چھپا نہیں رہتا۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم راضی ہوتی ہو تو قسم کھاتے ہوئے کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب تم ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا، اے اللہ کے رسول!
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور سند سے بھی یہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے عائشہ، جب تم راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو، مجھ سے چھپا نہیں رہتا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں (دل سے نہیں)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک تیسری سند سے بھی یہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میں جان لیتا ہوں جب تم راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: وہ کیسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور سند سے بھی یہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے عائشہ، جب تم راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو، مجھ سے چھپا نہیں رہتا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں (دل سے نہیں)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک تیسری سند سے بھی یہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میں جان لیتا ہوں جب تم راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: وہ کیسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى» ، قُلْتُ: وَبِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: " إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْفَرَجِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى» ، قُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ؟، قَالَ: " إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى، قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میں جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب مجھ پر ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب مجھ پر ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «سَابَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگائی تو میں آپ ﷺ سے آگے نکل گئی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَقَدَّمُوا» ، ثُمَّ قَالَ: «تَعَالِ حَتَّى أُسَابِقَكِ» ، فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَفَرٍ وَقَدْ جَمَعْتُ اللَّحْمَ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَقَدَّمُوا» ، ثُمَّ قَالَ: «تَعَالِ حَتَّى أُسَابِقَكِ» ، فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، فَضَرَبَ بَيْنَ كَتِفَيَّ، وَقَالَ: «هَذِهِ بِتِلْكَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلی، آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”آگے بڑھ جاؤ“، پھر مجھ سے فرمایا: ”آؤ، دوڑ لگائیں۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگائی اور میں آگے نکل گئی۔ پھر اس کے بعد میں ایک اور سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ نکلی، اس وقت میرا جسم بھاری ہو چکا تھا، تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”آگے بڑھ جاؤ“، پھر فرمایا: ”آؤ دوڑ لگائیں۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگائی تو آپ ﷺ مجھ سے آگے نکل گئے، پھر آپ ﷺ نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان شفقت سے ہاتھ مارا اور فرمایا: ”یہ اس کا بدلہ ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَابَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا حَمَلْتُ مِنَ اللَّحْمِ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ هَذِهِ بِتِلْكَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگائی تو میں آگے نکل گئی۔ پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے دوڑ لگائی اور مجھ سے آگے نکل گئے، تو فرمایا: ”اے عائشہ! یہ اس کا بدلہ ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ لِأَبِي بَكْرٍ: " رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُدْفَنُ فِي بَيْتِكِ ثَلَاثَةٌ هُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ". قَالَ يَحْيَى: فَسَمِعْتُ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قُبِضَ فِي بَيْتِهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «أَحَدُ أَقْمَارِكِ، وَهُوَ خَيْرُهَا»
ترجمہ
...تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے گھر میں تین ایسے لوگ دفن ہوں گے جو اہلِ زمین میں سب سے بہتر ہوں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے لوگوں کو یہ بیان کرتے سنا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ان کے گھر میں ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے چاندوں میں سے ایک، اور ان سب سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبِ، عَنْ نَافِعٍ، أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ، فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: خَيْرُ أَقْمَارِكِ يَا عَائِشَةُ، وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا تین چاند میرے حجرے میں گر پڑے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہارا خواب سچا ہوا تو تمہارے گھر میں اہلِ زمین کے تین بہترین لوگ دفن ہوں گے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کا انتقال ہوا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عائشہ! یہ تمہارے چاندوں میں سب سے بہتر ہے۔ اور ان کے گھر میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی دفن ہوئے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأُسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّلَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ هَوَيْنَ فِي حُجْرَتِي، فَقَالَ لَهَا: " إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ - أُرَاهُ قَالَ: - أَفْضَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَفْضَلُ أَقْمَارِهَا، ثُمَّ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قُبِضَ عُمَرُ، فَدُفِنُوا فِي بَيْتِهَا
ترجمہ
حسن، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ تین چاند میرے حجرے میں گرے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تمہارا خواب سچا ہوا تو تمہارے گھر میں“ - راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا - ”اہلِ جنت میں سب سے افضل لوگ دفن ہوں گے۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ ﷺ ہی ان کے چاندوں میں سب سے افضل تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی، تو یہ سب ان کے گھر میں دفن ہوئے۔