المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك — باب باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حدیث نمبر: 19425
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى» ، قُلْتُ: وَبِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: " إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔