کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: تیمم کا واقعہ، اور یہ کہ اس کا حکم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سبب نازل ہوا — باب
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدِي، فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالُوا: مَا نَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَعَاتَبَنِي وَقَالَ لِي مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعَنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا۔ نبی کریم ﷺ اسے تلاش کرنے کے لیے وہیں ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ ٹھہر گئے، جبکہ ان کے پاس پانی نہ تھا۔ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: دیکھیے عائشہ نے کیا کیا، نبی کریم ﷺ اور لوگوں کو یہاں روک دیا حالانکہ ان کے پاس پانی نہیں ہے۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، مگر مجھے حرکت کرنے سے صرف یہ بات روکے رکھتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ بغیر وضو کے صبح ہو گئی، تو اللہ نے تیمم کی آیت نازل فرما دی۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں۔ چنانچہ ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے پایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ غَيْرُهُ، قَالَ: سَقَطَ عِقْدُ عَائِشَةَ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرًا يَبْتَغُونَهُ، فَأَدْرَكَهُمُ الصُّبْحُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلُّوا بِغَيْرِ طُهُورٍ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ التَّيَمُّمُ "، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ بِعَائِشَةَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَعَنَّيْتِيهُمْ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَقَالَ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَهُ أَيُّوبُ أَيْضًا، فَلَمَّا نَزَلَ التَّيَمُّمُ سُرَّ بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا عَلِمْتُكِ لَمُبَارَكَةٌ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللهُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا
ترجمہ
ہشام بن عروہ اپنے والد یا کسی اور سے بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گر گیا، تو نبی کریم ﷺ نے چند لوگوں کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ صبح ہو گئی جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، تو انہوں نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی، پھر نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ معمر کہتے ہیں: مجھے ایوب نے بتایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے تو کہا: تم نے لوگوں کو روک دیا اور انہیں تکلیف دی۔ معمر کہتے ہیں: ہشام نے اپنے والد سے اور ایوب نے بھی یہی بیان کیا کہ جب تیمم کی آیت نازل ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر خوش ہوئے اور فرمایا: مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تم کتنی بابرکت ہو، تم پر کوئی ایسی بات نہیں آتی جو تمہیں ناپسند ہو مگر اللہ اس میں مسلمانوں کے لیے کوئی بھلائی رکھ دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَسَقَطَتْ مِنْ عُنُقِهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ رِجَالًا يَبْتَغُونَهَا فَابْتَغَوْهَا، فَوَجَدُوا فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ طُهُورٍ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ الرُّخْصَةَ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا، فَوَاللهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللهُ لَكِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ خَيْرًا
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریتاً لیا تھا، وہ ان کی گردن سے گر گیا، تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی۔ آپ ﷺ نے کچھ آدمی اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجے، انہوں نے تلاش کیا اور پا لیا، لیکن اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹے اور یہ بات ذکر کی، تو اللہ نے رخصت نازل فرما دی۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہیں جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! تم پر کوئی ایسی بات نہیں آتی جو تمہیں ناپسند ہو مگر اللہ تمہارے اور مومنوں کے لیے اس میں بھلائی رکھ دیتا ہے۔