المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك — باب باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَقَدَّمُوا» ، ثُمَّ قَالَ: «تَعَالِ حَتَّى أُسَابِقَكِ» ، فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَفَرٍ وَقَدْ جَمَعْتُ اللَّحْمَ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَقَدَّمُوا» ، ثُمَّ قَالَ: «تَعَالِ حَتَّى أُسَابِقَكِ» ، فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، فَضَرَبَ بَيْنَ كَتِفَيَّ، وَقَالَ: «هَذِهِ بِتِلْكَ»سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلی، آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”آگے بڑھ جاؤ“، پھر مجھ سے فرمایا: ”آؤ، دوڑ لگائیں۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگائی اور میں آگے نکل گئی۔ پھر اس کے بعد میں ایک اور سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ نکلی، اس وقت میرا جسم بھاری ہو چکا تھا، تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”آگے بڑھ جاؤ“، پھر فرمایا: ”آؤ دوڑ لگائیں۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگائی تو آپ ﷺ مجھ سے آگے نکل گئے، پھر آپ ﷺ نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان شفقت سے ہاتھ مارا اور فرمایا: ”یہ اس کا بدلہ ہے۔“