المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك — باب باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حدیث نمبر: 19432
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأُسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّلَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ هَوَيْنَ فِي حُجْرَتِي، فَقَالَ لَهَا: " إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ - أُرَاهُ قَالَ: - أَفْضَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَفْضَلُ أَقْمَارِهَا، ثُمَّ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قُبِضَ عُمَرُ، فَدُفِنُوا فِي بَيْتِهَاترجمہ
حسن، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ تین چاند میرے حجرے میں گرے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تمہارا خواب سچا ہوا تو تمہارے گھر میں“ - راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا - ”اہلِ جنت میں سب سے افضل لوگ دفن ہوں گے۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ ﷺ ہی ان کے چاندوں میں سب سے افضل تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی، تو یہ سب ان کے گھر میں دفن ہوئے۔