حدیث نمبر: 19419
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟، قَالَ: «عَائِشَةُ» ، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ، قَالَ: «أَبُوهَا» ، قُلْتُ: وَمَنْ؟، قَالَ: «عُمَرُ» ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ فَعَدَّدَ رِجَالًا.
ترجمہ

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں غزوۂ ذات السلاسل کے لشکر پر امیر بنا کر بھیجا، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ۔“ میں نے کہا: مردوں میں سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے والد۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمر۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ ﷺ نے کئی مردوں کے نام گنوائے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19419
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 44، حدیث 114