کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: زیاد بن علاقہ کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ عِلَاقَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمُهُ أَوْ سَاقَاهُ , فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟»
ترجمہ
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: نبی کریم ﷺ اتنی دیر تک نماز پڑھتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں یا پنڈلیاں سوج جاتیں، تو آپ ﷺ سے (اس کی وجہ) پوچھی جاتی، آپ ﷺ فرماتے: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَنْفَطِرَ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اتنی دیر تک نماز پڑھتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں پھٹ جاتے، تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: ”کیا اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ , فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ: أَتَفْعَلُ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اتنی دیر نماز پڑھتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں سوج جاتے، تو اس بارے میں آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: ”کیا آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ قَالَا , ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مُردوں کو برا مت کہو، کیونکہ اس سے تم زندوں کو تکلیف پہنچاتے ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا , ثَنَا زَائِدَةُ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ , لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ»
ترجمہ
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن زدہ نہیں ہوتے، جب تم انہیں (گرہن زدہ) دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ (گرہن) دور ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا تَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَعَلَيْكُمْ بِالدُّعَاءِ حَتَّى تَنْكَشِفَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جس دن رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوا اسی دن سورج گرہن لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن زدہ نہیں ہوتے، جب تم انہیں دیکھو تو دعا کو لازم پکڑو یہاں تک کہ (گرہن) دور ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَقَيْسٌ , وَشَيْبَانُ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ , فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوا تو سورج گرہن لگا، لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن زدہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب ایسا ہو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ (گرہن) دور ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَمَّادٌ الْكُوفِيُّ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا جُعِلَ مَعَهُ قَرِينٌ مِنَ الْجِنِّ» , قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنَّ اللهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ , فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر شخص کے ساتھ جنوں میں سے ایک ساتھی (قرین) مقرر کیا گیا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ”کیا آپ کے ساتھ بھی، اے اللہ کے رسول؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے ساتھ بھی، مگر اللہ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی تو وہ مسلمان ہو گیا، اب وہ مجھے بھلائی کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ "
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: " صَلَّى الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ , فَلَمَّا فَرَغَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، وہ پہلی دو رکعتوں میں کھڑے ہو گئے تو لوگوں نے انہیں سبحان اللہ کہہ کر متوجہ کیا، مگر وہ اپنی نماز میں آگے بڑھ گئے۔ جب فارغ ہوئے تو سجدہ سہو کے دو سجدے کیے اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔“