حدیث نمبر: 18140
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَقَيْسٌ , وَشَيْبَانُ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ , فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ»
ترجمہ

سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوا تو سورج گرہن لگا، لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن زدہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب ایسا ہو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ (گرہن) دور ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18140
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 421، حدیث 1016