المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سويد بن سرحان , عن المغيرة باب: سوید بن سرحان کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا , ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَرْحَانَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ يَتَوَضَّأُ فَانْتَهَرَنِي , فَسَاءَنِي ذَلِكَ وَاللهِ فَشَكَوْتُ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا خَيْرٌ , وَلَكِنَّهُ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ , وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا , وَلَوْ فَعَلْتُ فَعَلَ النَّاسُ بَعْدِي»سوید بن سرحان رحمہ اللہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھانا کھایا، پھر نماز کھڑی ہو گئی تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے حالانکہ آپ ﷺ اس سے پہلے وضو کر چکے تھے، تو میں آپ ﷺ کے پاس وضو کے لیے پانی لے کر آیا تو آپ ﷺ نے مجھے ڈانٹ دیا، اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بری لگی، تو میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس کی شکایت کی۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مغیرہ بن شعبہ پر آپ کی ڈانٹ گراں گزری ہے اور اسے ڈر ہے کہ کہیں آپ کے دل میں اس کے خلاف کچھ نہ ہو۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے دل میں اس کے خلاف بھلائی کے سوا کچھ نہیں، لیکن وہ میرے پاس وضو کے لیے پانی لے آیا تھا، حالانکہ میں نے صرف کھانا کھایا تھا، اور اگر میں ایسے ہی کر لیتا تو میرے بعد لوگ بھی ایسا ہی کرنے لگتے۔“