حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثَنَا أَبِي، أَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ كِلَاهُمَا عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِلْفِ، فَقَالَ: «مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَمَسَّكُوا بِهِ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے حلف (عہد و پیمان) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو حلف زمانہ جاہلیت میں تھا اسے لازم پکڑو، اور اسلام میں نیا حلف نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ المُجَوِّزُ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کریں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَخْلَاهُ، فَأَسْلَمَ، «فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ» ، فَاغْتَسَلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَدَخَلَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَامَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ ثَلَاثِ كَلِمَاتٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، آپ سے تنہائی میں ملاقات کی اور مسلمان ہو گئے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کریں، انہوں نے غسل کیا، پھر نماز کھڑی ہو گئی تو وہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان داخل ہو کر ان دونوں کے بیچ کھڑے ہو گئے۔ جب نماز مکمل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیس بن عاصم نے مجھ سے تین باتیں پوچھی ہیں، ان کے سوا مجھ سے یہ سوال کسی نے نہیں پوچھے سوائے ابوبکر کے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي وَأَدَتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اثْنَتَي عَشْرَةَ بِنْتًا أَو ثَلَاثَةَ عَشَرَ بِنْتًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ نَسَمَةً»
ترجمہ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میں نے زمانہ جاہلیت میں بارہ یا تیرہ بیٹیوں کو زندہ دفن کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک جان (غلام) آزاد کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَدَوِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ التَّمِيمِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَقَالَ: «بَنِيَّ اتَّقُوا اللهَ، وَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ فَإِنَّ الْقَوْمَ إِذَا سَوَّدُوا أَكْبَرَهُمْ خُلِّفُوا أَبَاهُمْ، وَإِذَا سَوَّدُوا أَصْغَرَهُمْ أَزْرِي بِهِم فِي أَكِفَّائِكُمْ، وَعَلَيْكُمْ بِاصْطِنَاعِ الْمَالِ فَإِنَّهُ مَنْبَهَةٌ لِلْكَرَمِ، وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ، وَإِيَّاكُمْ وَمَسْأَلَةَ النَّاسِ فَإِنَّهَا مِنْ آخِرِ كَسْبِ الْمَرْءِ، وَإِذَا مُتُّ فَلَا تَنُوحُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ، وَإِذَا مُتُّ فَادْفِنُونِي بِأَرْضٍ لَا يَشْعُرُ بِدَفْنِي بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ فَإِنِّي كُنْتُ أُغَاوِلُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا حکیم بن قیس بن عاصم تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے اپنی موت کے وقت یہ وصیت کی: ”میرے بیٹو! اللہ سے ڈرو، اور اپنے سب سے بڑے کو سردار بناؤ، کیونکہ لوگ جب اپنے سب سے بڑے کو سردار بناتے ہیں تو گویا وہ اپنے باپ کا قائم مقام بناتے ہیں، اور جب اپنے سب سے چھوٹے کو سردار بناتے ہیں تو یہ تمہارے ہم پلہ لوگوں میں تمہاری تذلیل ہے۔ اور مال کمانے اور سنوارنے کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ سخاوت کو ابھارتا ہے اور اس کے ذریعے کمینے شخص سے بے نیاز ہوا جاتا ہے۔ لوگوں سے مانگنے سے بچو، کیونکہ یہ آدمی کی کمائی کی آخری صورت ہے۔ اور جب میں مر جاؤں تو نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔ اور جب میں مر جاؤں تو مجھے ایسی زمین میں دفن کرنا جہاں میرے دفن کی خبر بنو بکر بن وائل کو نہ ہو، کیونکہ میں زمانہ جاہلیت میں ان پر شبخون مارا کرتا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا زِيَادٌ الجَصَّاصُ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيُّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْعَرَبِ» قَالَ: فَلَمَّا نَزَلْنَا أَتَيْتُهُ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ، قَالَ: قُلْتٌ يَا رَسُولَ اللهِ الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ ضَافَنِي وَعِيَالٍ كَثُرُوا، قَالَ: «نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ، وَالْأَكْثَرُ السِّتُّونَ، وَوَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِائَتَيْنِ إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا، وَأَفْقَرَ ظَهْرًا وَنَحَرَ سَمِينَهَا فَأَطْعَمَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ» قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقَ وَأَحْسَنَهَا، يَا رَسُولَ اللهِ لَا يَحِلُّ بِالْوَادِي الَّذِي أَكُونُ فِيهِ لِكَثْرَةِ إِبِلِي، قَالَ: «فَكَيْفَ تَصْنَعُ؟» قُلْتُ: تَغْدُو الْإِبِلُ وَيَغْدُو النَّاسُ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ فَذَهَبَ بِهِ، فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُ بِإِفْقَارِ الظَّهْرِ؟» قُلْتُ: إِنِّي لَا أُفْقِرُ الصَّغِيرَ وَلَا النَّابَ المُدْبِرَةَ قَالَ: «فَمَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مَوَالِيكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: مَالِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ، قَالَ: «فَإِنَّ لَكَ مِنْ مَالِكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَو لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَو أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ، وَإِلَّا فَلُمُّوا إِلَيْكَ» فَقُلْتُ: وَاللهِ لَئِنْ بَقِيَتُ لَأَفْنِيَنَّ عَدَدَهَا، قَالَ الْحَسَنُ: فَفَعَلَ وَاللهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ قَيْسًا الْوَفَاةُ قَالَ: يَا بَنِيَّ خُذُوا عَنِّي، لَا أَجِدُ أَنْصَحَ لَكُمْ مِنِّي: إِذَا أَنَا مُتُّ فَسَوِّدُوا كِبَارَكُمْ، وَلَا تُسَوِّدُوا صِغَارَكُمْ فَيَسْتَسْفِهَكُمُ النَّاسُ فَيَهُونُوا عَلَيْكُمْ، وَعَلَيْكُمْ بِاسْتِصْلَاحِ الْمَالِ، فَإِنَّهُ مَنْبَهَةُ الْكَرِيمِ وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهَا آخِرُ كَسْبِ الْمَرْءِ، إِنَّ أَحَدًا لَمْ يَسْأَلْ إِلَّا تَرَكَ كَسْبَهُ، وَإِذَا مُتُّ فَلَا تَنُوحُوا عَلَيَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَنْهَى عَنِ النِّيَاحَةِ» وَكَفِّنُونِي فِي ثِيَابِي الَّتِي كُنْتُ أُصَلِّي فِيهَا وَأَصُومُ، وَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَلَا تَدْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ يَطَّلِعُ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَإِنَّهٌ قَدْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ خَمَاشَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ يَنْبُشُونِي فَيَصْنَعُونَ فِي ذَلِكَ مَا يَذْهَبُ فِيهِ دِينُكُمْ وَدُنْيَاكُمْ " قَالَ الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللهُ: نَصَحَ لَهُمْ فِي الْحَيَاةِ، وَنَصَحَ لَهُمْ فِي الْمَمَاتِ
ترجمہ
سیدنا قیس بن عاصم منقری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عرب کے سردار ہیں۔“ وہ کہتے ہیں: جب ہم اترے تو میں آپ کے پاس آیا اور آپ سے باتیں کرنے لگا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ مال جس میں مجھ پر کوئی مہمان یا زیادہ عیال کی وجہ سے کوئی مواخذہ نہ ہو (وہ کتنا ہونا چاہیے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس اونٹ اچھا مال ہے، اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ، اور دو سو اونٹوں والوں کے لیے افسوس ہے، سوائے اس کے جو ان کے دودھ اور استعمال میں لوگوں کو دے، اور اپنی سواری کے جانور کو دوسروں کی خدمت کے لیے دے، اور اس کے موٹے تازے کو ذبح کرے اور سوالی اور محتاج کو کھلائے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ اخلاق کتنے معزز اور کتنے اچھے ہیں! یا رسول اللہ! میرے اونٹوں کی کثرت کی وجہ سے کوئی اس وادی میں نہیں اترتا جہاں میں ہوتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اونٹ صبح نکلتے ہیں اور لوگ بھی صبح نکلتے ہیں، تو جو چاہے کسی اونٹ کا سر پکڑ کر اسے لے جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سواری کے جانور کو دوسروں کے حوالے کر کے کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں چھوٹے اور بوڑھے اونٹ کو نہیں دیتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اپنا مال زیادہ پیارا ہے یا اپنے موالی کا مال؟“ میں نے عرض کیا: میرا مال مجھے اپنے موالی کے مال سے زیادہ پیارا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے مال میں سے تمہارا صرف وہی ہے جو تم کھا کر فنا کر دو، یا پہن کر پرانا کر دو، یا دے کر خرچ کر دو، اس کے علاوہ تو تمہارے مرنے کے بعد لوگ اسے سمیٹ کر لے جائیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اگر میں زندہ رہا تو میں اسے فنا کر دوں گا۔ حسن (بصری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب قیس رضی اللہ عنہ کو موت آئی تو انہوں نے فرمایا: ”میرے بیٹو! مجھ سے نصیحت لے لو، مجھ سے زیادہ تمہارا خیر خواہ کوئی نہیں: جب میں مر جاؤں تو اپنے بڑوں کو سردار بناؤ، اور اپنے چھوٹوں کو سردار نہ بناؤ، ورنہ لوگ تمہیں کم عقل سمجھیں گے اور تم ان کی نظر میں حقیر ہو جاؤ گے۔ اور مال کو سنوارنے کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ معزز شخص کو ابھارتا ہے اور اس کے ذریعے کمینے سے بے نیاز ہوا جاتا ہے۔ لوگوں سے مانگنے سے بچو، کیونکہ یہ آدمی کی کمائی کی آخری صورت ہے، کوئی بھی شخص مانگتا نہیں مگر اپنی کمائی چھوڑ دیتا ہے۔ اور جب میں مر جاؤں تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نوحے سے منع فرماتے سنا ہے۔ اور مجھے ان کپڑوں میں کفن دینا جن میں میں نماز پڑھتا اور روزہ رکھتا تھا۔ اور جب تم مجھے دفن کرو تو کسی ایسی جگہ دفن نہ کرنا جہاں کوئی مجھ پر آگاہ ہو، کیونکہ میرے اور بکر بن وائل کے درمیان زمانہ جاہلیت میں کچھ زخم (دشمنیاں) تھیں، مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قبر سے نکال کر ایسا کچھ کریں گے جس سے تمہارا دین اور دنیا دونوں برباد ہوں گے۔“ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے زندگی میں بھی ان کی خیرخواہی کی اور موت میں بھی خیرخواہی کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَاصِمٍ، وَهُوَ يُوصِي فَجَمَعَ بَنِيهِ وَهُمِ اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ ذَكَرًا، فَقَالَ: «يَا بَنِيَّ إِذَا أَنَا مُتُّ، فَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ تَخْلُفُوا آبَاءَكُمْ، وَلَا تُسَوِّدُوا أَصْغَرَكُمْ فَيُزْرِي بِكُمْ ذَاكَ عِنْدَ أُلَفَائِكُمْ، وَلَا تُقِيمُوا عَلَيَّ نَائِحَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النِّيَاحَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِإصْلاحِ الْمَالِ، فَإِنَّهُ مَنْبَهَةٌ لِلكَرِيمِ وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ، وَلَا تُعْطُوا رِقَابَ الْإِبِلِ إِلَّا حَقَّهَا، وَلَا تَمْنَعُوهَا مِنْ حَقِّهَا، وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ عِرْقِ سُوءٍ، فَمَهْمَا يَسُرُّكُمْ يَوْمًا فَمَا يَسُوءُكُمْ أَكْثَرُ، وَاحْذَرُوا أَبْنَاءَ أَعْدَائِكُمْ فَإِنَّهُمْ لَكُمْ أَعْدَاءٌ عَلَى مِنْهَاجِ آبَائِهِمْ، وَإِذَا أَنَا مُتُّ فَادْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ لَا يَطَّلِعُ عَلَيَّ هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، فَإِنَّهَا كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ خماشاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ يَنْبُشُونِي فَيُفْسِدُوا عَلَيْهِمْ دُنْيَاهُمْ وَيُفْسِدُوا عَلَيْكُمْ آخِرَتَكُمْ، ثُمَّ دَعَا بِكِنَانَتِهِ فَأَمَرَ ابْنَهُ الْأَكْبَرَ وَكَانَ يُسَمَّى عَلِيًّا» فَقَالَ: «أَخْرِجْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي،» فَأَخْرَجَهُ فَقَالَ: «اكْسَرْهُ، فَكَسَرَهُ» ثُمَّ قَالَ: «أَخْرِجْ سَهْمَيْنِ، فَأَخْرَجَهُمَا» فَقَالَ: «اكْسَرْهُمَا فَكَسَرَهُمَا» ، ثُمَّ قَالَ: «أَخْرِجْ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ فَأَخْرَجَهَا» فَقَالَ: «اكْسَرْهَا فَكَسَرَهَا» ، ثُمَّ قَالَ: «أَخْرِجْ ثَلَاثِينَ سَهْمًا فَأَخْرَجَهَا» ، فَقَالَ: «أَعْصِبْهَا بِوِتْرٍ فَعَصَبَهَا» ثُمَّ قَالَ: «اكْسَرْهَا» ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ كَسْرَهَا فَقَالَ: " يَا بَنِيَّ هَكَذَا أَنْتُمْ بِالِاجْتِمَاعِ، وَكَذَلِكَ أَنْتُمْ بِالفُرْقَةِ ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ:
[البحر الكامل]
إِنَّمَا الْمَجْدُ مَا بَنَى وَالِدُ الصِّدْقِ ... وأَحْيَى فِعَالَهُ الْمَوْلُودْ
وَكَفَى الْمَجْدُ والشَّجَاعَةُ وَالْحُلْمُ ... إِذَا زَانَهَا عَفَافٌ وَجُودْ
وَثَلَاثُونَ يَا بَنِيَّ إِذَا مَا ... عَقَّدْتُمْ لِلنَّائِبَاتِ الْعُهُودْ
كَثَلاثِينَ مِنْ قِدَاحٍ إِذَا مَا ... شَدَّهَا لِلمُرَادِ عَقْدٌ شَدِيدْ
لَمْ تُكْسَرْ وَإِنْ تَبَدَّدَتِ الْأَسْهُمُ ... أَوْدَى بِجَمْعِهَا التَّبْدِيدْ
وَذَوُو السِّنِّ والْمُرَوءَةِ أَوْلَى أَنْ ... يَكُونَ مِنْكُمْ لَهُمْ تَسْوِيدْ
وَعَلَيْهِمُ حَفِظُ الأَصَاغِرِ حَتَّى ... يَبْلُغَ الْحِنْثُ الْأَصْغَرُ الْمَجْهُودْ "
[البحر الكامل]
إِنَّمَا الْمَجْدُ مَا بَنَى وَالِدُ الصِّدْقِ ... وأَحْيَى فِعَالَهُ الْمَوْلُودْ
وَكَفَى الْمَجْدُ والشَّجَاعَةُ وَالْحُلْمُ ... إِذَا زَانَهَا عَفَافٌ وَجُودْ
وَثَلَاثُونَ يَا بَنِيَّ إِذَا مَا ... عَقَّدْتُمْ لِلنَّائِبَاتِ الْعُهُودْ
كَثَلاثِينَ مِنْ قِدَاحٍ إِذَا مَا ... شَدَّهَا لِلمُرَادِ عَقْدٌ شَدِيدْ
لَمْ تُكْسَرْ وَإِنْ تَبَدَّدَتِ الْأَسْهُمُ ... أَوْدَى بِجَمْعِهَا التَّبْدِيدْ
وَذَوُو السِّنِّ والْمُرَوءَةِ أَوْلَى أَنْ ... يَكُونَ مِنْكُمْ لَهُمْ تَسْوِيدْ
وَعَلَيْهِمُ حَفِظُ الأَصَاغِرِ حَتَّى ... يَبْلُغَ الْحِنْثُ الْأَصْغَرُ الْمَجْهُودْ "
ترجمہ
عبدالملک بن ابی سویہ منقری اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: میں نے ابن عاصم (سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ) کو سنا کہ وہ وصیت کر رہے تھے، انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا، جو بتیس مرد تھے، اور فرمایا: ”میرے بیٹو! جب میں مر جاؤں تو اپنے سب سے بڑے کو سردار بناؤ تاکہ تم اپنے باپوں کے قائم مقام بن سکو، اور اپنے سب سے چھوٹے کو سردار نہ بناؤ ورنہ یہ تمہارے ساتھیوں کے نزدیک تمہاری تذلیل کا باعث بنے گا۔ اور میرے لیے نوحہ کرنے والی کو مقرر نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نوحے سے منع فرماتے سنا ہے۔ اور مال کو سنوارنے کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ معزز شخص کو ابھارتا ہے اور اس کے ذریعے کمینے سے بے نیاز ہوا جاتا ہے۔ اونٹوں کے گلے کو صرف ان کا حق دو، اور انہیں ان کے حق سے محروم نہ رکھو، اور ہر بری نسل سے بچو، کیونکہ ایک دن جو تمہیں خوش کرے گا اس سے کہیں زیادہ وہ تمہیں غمگین کرے گی۔ اور اپنے دشمنوں کی اولاد سے ہوشیار رہو، کیونکہ وہ تمہارے اپنے باپوں کے راستے پر چلتے ہوئے تمہارے دشمن ہیں۔ اور جب میں مر جاؤں تو مجھے ایسی جگہ دفن کرنا جہاں بنو بکر بن وائل کا یہ قبیلہ مجھ پر آگاہ نہ ہو، کیونکہ میرے اور ان کے درمیان زمانہ جاہلیت میں کچھ زخم (دشمنیاں) تھیں، مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قبر سے نکالیں اور اس سے اپنی دنیا بھی بگاڑیں اور تمہاری آخرت بھی بگاڑیں۔“ پھر انہوں نے اپنا ترکش منگوایا اور اپنے سب سے بڑے بیٹے کو، جن کا نام علی تھا، حکم دیا اور فرمایا: ”میرے ترکش سے ایک تیر نکالو۔“ اس نے نکالا تو فرمایا: ”اسے توڑ دو۔“ اس نے توڑ دیا۔ پھر فرمایا: ”دو تیر نکالو۔“ اس نے نکالے تو فرمایا: ”انہیں توڑ دو۔“ اس نے توڑ دیے۔ پھر فرمایا: ”تین تیر نکالو۔“ اس نے نکالے تو فرمایا: ”انہیں توڑ دو۔“ اس نے توڑ دیے۔ پھر فرمایا: ”تیس تیر نکالو۔“ اس نے نکالے تو فرمایا: ”انہیں ڈوری سے باندھ دو۔“ اس نے باندھ دیا۔ پھر فرمایا: ”انہیں توڑو۔“ وہ انہیں نہ توڑ سکا، تو فرمایا: ”میرے بیٹو! اجتماعیت میں تم ایسے ہی مضبوط ہو، اور تفرقے میں بھی تم ایسے ہی کمزور ہو۔“ پھر یہ اشعار پڑھے:
عزت و بزرگی تو وہی ہے جو ایک سچے باپ نے تعمیر کی، اور جسے اس کی اولاد نے اپنے کردار سے زندہ رکھا۔
عزت، بہادری اور بردباری تب کافی ہیں جب انہیں عفت اور سخاوت مزین کریں۔
اے میرے بیٹو! تم تیس بھائی ہو، جب تم مصیبتوں کے مقابلے میں عہد باندھو،
تو تیس تیروں کی طرح ہو جو جب مضبوط ڈوری سے باندھ دیے جائیں،
تو نہیں ٹوٹتے، اور اگر تیر بکھر جائیں تو ان کا بکھرنا ہی ان کے مجموعے کو تباہ کر دیتا ہے۔
اور جو عمر رسیدہ اور باوقار ہوں وہی تم میں سے سرداری کے زیادہ حق دار ہیں،
اور ان پر چھوٹوں کی حفاظت لازم ہے یہاں تک کہ سب سے چھوٹا بھی بلوغت کو پہنچ کر محنت کے قابل ہو جائے۔
عزت و بزرگی تو وہی ہے جو ایک سچے باپ نے تعمیر کی، اور جسے اس کی اولاد نے اپنے کردار سے زندہ رکھا۔
عزت، بہادری اور بردباری تب کافی ہیں جب انہیں عفت اور سخاوت مزین کریں۔
اے میرے بیٹو! تم تیس بھائی ہو، جب تم مصیبتوں کے مقابلے میں عہد باندھو،
تو تیس تیروں کی طرح ہو جو جب مضبوط ڈوری سے باندھ دیے جائیں،
تو نہیں ٹوٹتے، اور اگر تیر بکھر جائیں تو ان کا بکھرنا ہی ان کے مجموعے کو تباہ کر دیتا ہے۔
اور جو عمر رسیدہ اور باوقار ہوں وہی تم میں سے سرداری کے زیادہ حق دار ہیں،
اور ان پر چھوٹوں کی حفاظت لازم ہے یہاں تک کہ سب سے چھوٹا بھی بلوغت کو پہنچ کر محنت کے قابل ہو جائے۔