المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند قيس بن عاصم باب: سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَدَوِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ التَّمِيمِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَقَالَ: «بَنِيَّ اتَّقُوا اللهَ، وَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ فَإِنَّ الْقَوْمَ إِذَا سَوَّدُوا أَكْبَرَهُمْ خُلِّفُوا أَبَاهُمْ، وَإِذَا سَوَّدُوا أَصْغَرَهُمْ أَزْرِي بِهِم فِي أَكِفَّائِكُمْ، وَعَلَيْكُمْ بِاصْطِنَاعِ الْمَالِ فَإِنَّهُ مَنْبَهَةٌ لِلْكَرَمِ، وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ، وَإِيَّاكُمْ وَمَسْأَلَةَ النَّاسِ فَإِنَّهَا مِنْ آخِرِ كَسْبِ الْمَرْءِ، وَإِذَا مُتُّ فَلَا تَنُوحُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ، وَإِذَا مُتُّ فَادْفِنُونِي بِأَرْضٍ لَا يَشْعُرُ بِدَفْنِي بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ فَإِنِّي كُنْتُ أُغَاوِلُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ»سیدنا حکیم بن قیس بن عاصم تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے اپنی موت کے وقت یہ وصیت کی: ”میرے بیٹو! اللہ سے ڈرو، اور اپنے سب سے بڑے کو سردار بناؤ، کیونکہ لوگ جب اپنے سب سے بڑے کو سردار بناتے ہیں تو گویا وہ اپنے باپ کا قائم مقام بناتے ہیں، اور جب اپنے سب سے چھوٹے کو سردار بناتے ہیں تو یہ تمہارے ہم پلہ لوگوں میں تمہاری تذلیل ہے۔ اور مال کمانے اور سنوارنے کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ سخاوت کو ابھارتا ہے اور اس کے ذریعے کمینے شخص سے بے نیاز ہوا جاتا ہے۔ لوگوں سے مانگنے سے بچو، کیونکہ یہ آدمی کی کمائی کی آخری صورت ہے۔ اور جب میں مر جاؤں تو نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔ اور جب میں مر جاؤں تو مجھے ایسی زمین میں دفن کرنا جہاں میرے دفن کی خبر بنو بکر بن وائل کو نہ ہو، کیونکہ میں زمانہ جاہلیت میں ان پر شبخون مارا کرتا تھا۔“