حدیث نمبر: 15961
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا زِيَادٌ الجَصَّاصُ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيُّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْعَرَبِ» قَالَ: فَلَمَّا نَزَلْنَا أَتَيْتُهُ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ، قَالَ: قُلْتٌ يَا رَسُولَ اللهِ الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ ضَافَنِي وَعِيَالٍ كَثُرُوا، قَالَ: «نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ، وَالْأَكْثَرُ السِّتُّونَ، وَوَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِائَتَيْنِ إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا، وَأَفْقَرَ ظَهْرًا وَنَحَرَ سَمِينَهَا فَأَطْعَمَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ» قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقَ وَأَحْسَنَهَا، يَا رَسُولَ اللهِ لَا يَحِلُّ بِالْوَادِي الَّذِي أَكُونُ فِيهِ لِكَثْرَةِ إِبِلِي، قَالَ: «فَكَيْفَ تَصْنَعُ؟» قُلْتُ: تَغْدُو الْإِبِلُ وَيَغْدُو النَّاسُ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ فَذَهَبَ بِهِ، فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُ بِإِفْقَارِ الظَّهْرِ؟» قُلْتُ: إِنِّي لَا أُفْقِرُ الصَّغِيرَ وَلَا النَّابَ المُدْبِرَةَ قَالَ: «فَمَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مَوَالِيكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: مَالِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ، قَالَ: «فَإِنَّ لَكَ مِنْ مَالِكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَو لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَو أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ، وَإِلَّا فَلُمُّوا إِلَيْكَ» فَقُلْتُ: وَاللهِ لَئِنْ بَقِيَتُ لَأَفْنِيَنَّ عَدَدَهَا، قَالَ الْحَسَنُ: فَفَعَلَ وَاللهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ قَيْسًا الْوَفَاةُ قَالَ: يَا بَنِيَّ خُذُوا عَنِّي، لَا أَجِدُ أَنْصَحَ لَكُمْ مِنِّي: إِذَا أَنَا مُتُّ فَسَوِّدُوا كِبَارَكُمْ، وَلَا تُسَوِّدُوا صِغَارَكُمْ فَيَسْتَسْفِهَكُمُ النَّاسُ فَيَهُونُوا عَلَيْكُمْ، وَعَلَيْكُمْ بِاسْتِصْلَاحِ الْمَالِ، فَإِنَّهُ مَنْبَهَةُ الْكَرِيمِ وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهَا آخِرُ كَسْبِ الْمَرْءِ، إِنَّ أَحَدًا لَمْ يَسْأَلْ إِلَّا تَرَكَ كَسْبَهُ، وَإِذَا مُتُّ فَلَا تَنُوحُوا عَلَيَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَنْهَى عَنِ النِّيَاحَةِ» وَكَفِّنُونِي فِي ثِيَابِي الَّتِي كُنْتُ أُصَلِّي فِيهَا وَأَصُومُ، وَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَلَا تَدْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ يَطَّلِعُ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَإِنَّهٌ قَدْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ خَمَاشَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ يَنْبُشُونِي فَيَصْنَعُونَ فِي ذَلِكَ مَا يَذْهَبُ فِيهِ دِينُكُمْ وَدُنْيَاكُمْ " قَالَ الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللهُ: نَصَحَ لَهُمْ فِي الْحَيَاةِ، وَنَصَحَ لَهُمْ فِي الْمَمَاتِ
ترجمہ

سیدنا قیس بن عاصم منقری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عرب کے سردار ہیں۔“ وہ کہتے ہیں: جب ہم اترے تو میں آپ کے پاس آیا اور آپ سے باتیں کرنے لگا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ مال جس میں مجھ پر کوئی مہمان یا زیادہ عیال کی وجہ سے کوئی مواخذہ نہ ہو (وہ کتنا ہونا چاہیے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس اونٹ اچھا مال ہے، اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ، اور دو سو اونٹوں والوں کے لیے افسوس ہے، سوائے اس کے جو ان کے دودھ اور استعمال میں لوگوں کو دے، اور اپنی سواری کے جانور کو دوسروں کی خدمت کے لیے دے، اور اس کے موٹے تازے کو ذبح کرے اور سوالی اور محتاج کو کھلائے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ اخلاق کتنے معزز اور کتنے اچھے ہیں! یا رسول اللہ! میرے اونٹوں کی کثرت کی وجہ سے کوئی اس وادی میں نہیں اترتا جہاں میں ہوتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اونٹ صبح نکلتے ہیں اور لوگ بھی صبح نکلتے ہیں، تو جو چاہے کسی اونٹ کا سر پکڑ کر اسے لے جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سواری کے جانور کو دوسروں کے حوالے کر کے کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں چھوٹے اور بوڑھے اونٹ کو نہیں دیتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اپنا مال زیادہ پیارا ہے یا اپنے موالی کا مال؟“ میں نے عرض کیا: میرا مال مجھے اپنے موالی کے مال سے زیادہ پیارا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے مال میں سے تمہارا صرف وہی ہے جو تم کھا کر فنا کر دو، یا پہن کر پرانا کر دو، یا دے کر خرچ کر دو، اس کے علاوہ تو تمہارے مرنے کے بعد لوگ اسے سمیٹ کر لے جائیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اگر میں زندہ رہا تو میں اسے فنا کر دوں گا۔ حسن (بصری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب قیس رضی اللہ عنہ کو موت آئی تو انہوں نے فرمایا: ”میرے بیٹو! مجھ سے نصیحت لے لو، مجھ سے زیادہ تمہارا خیر خواہ کوئی نہیں: جب میں مر جاؤں تو اپنے بڑوں کو سردار بناؤ، اور اپنے چھوٹوں کو سردار نہ بناؤ، ورنہ لوگ تمہیں کم عقل سمجھیں گے اور تم ان کی نظر میں حقیر ہو جاؤ گے۔ اور مال کو سنوارنے کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ معزز شخص کو ابھارتا ہے اور اس کے ذریعے کمینے سے بے نیاز ہوا جاتا ہے۔ لوگوں سے مانگنے سے بچو، کیونکہ یہ آدمی کی کمائی کی آخری صورت ہے، کوئی بھی شخص مانگتا نہیں مگر اپنی کمائی چھوڑ دیتا ہے۔ اور جب میں مر جاؤں تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نوحے سے منع فرماتے سنا ہے۔ اور مجھے ان کپڑوں میں کفن دینا جن میں میں نماز پڑھتا اور روزہ رکھتا تھا۔ اور جب تم مجھے دفن کرو تو کسی ایسی جگہ دفن نہ کرنا جہاں کوئی مجھ پر آگاہ ہو، کیونکہ میرے اور بکر بن وائل کے درمیان زمانہ جاہلیت میں کچھ زخم (دشمنیاں) تھیں، مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قبر سے نکال کر ایسا کچھ کریں گے جس سے تمہارا دین اور دنیا دونوں برباد ہوں گے۔“ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے زندگی میں بھی ان کی خیرخواہی کی اور موت میں بھی خیرخواہی کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 15961
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 339، حدیث 870