❮
❯
حدیث نمبر: 15954
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْأُبُلِّيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا إِسْرَائِيلُ، ثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ {وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ} قَالَ: جَاءَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي وَأَدَتُ ثَمَانِيَ بَنَاتٍ لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: «أَعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا رَقَبَةً» ، قُلْتُ: إِنِّي صَاحِبُ إِبِلٍ، قَالَ: «اهْدِ إِنْ شِئْتَ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ بَدَنَةً»
ترجمہ

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، جب ان سے سورۃ التکویر کی آیت ”اور جب زندہ دفن کی ہوئی بچی سے پوچھا جائے گا“ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی آٹھ بیٹیوں کو زندہ دفن کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک غلام آزاد کرو۔“ میں نے عرض کیا: میں اونٹوں والا آدمی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو ان میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک اونٹ قربانی کے لیے (ہدی) بھیج دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 15954
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 337، حدیث 863